The news is by your side.

Advertisement

“چپل پہن کر بینک جائیں اور….”

جوتا ایسی چیز نہیں کہ زیور کی طرح مانگ تانگ کر پہن لیا جائے۔ اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا کہ چپل پہن کر بینک جائیں اور تین دن بعد تنخواہ ملے تو نیا جوتا خرید لیں۔

پھر خیال آیا کہ اگر اینڈرسن پوچھ بیٹھا کہ آج انسپکشن ڈیپارٹمنٹ چپل پہنے کیوں پھر رہا ہے تو کیا جواب دیں گے۔
ایک دفعہ ایک افسر بینک میں بغیر ٹائی کے آگیا تو اینڈرسن نے اس سے پوچھا کہ آج کیا بینک ہالی ڈے ہے جو یوں ننگ دھڑنگ پھر رہے ہو؟

اسی طرح ایک کلرک کا تین دن کا بڑھا ہوا شیو دیکھ کر دوّنی پکڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ اپنا کیمو فلاج منڈوا کر آؤ تاکہ چہرہ شناخت کر کے رجسٹر میں حاضری لگائی جاسکے۔

ذہن پر زور ڈالا تو اس کا حل بھی نکل آیا۔ چپل پہن کر ایک پیر پر پٹی باندھ لیں گے۔

کسی نے پوچھا تو کہہ دیں گے، چوٹ لگ گئی ہے اور یہ کچھ ایسا جھوٹ بھی نہیں۔ آخر اندرونی چوٹ تو آئی ہی تھی جس کے بارے میں حضرت نوحؔ ناروی سہلِ ممتنع میں فرما گئے ہیں:

جگر کی چوٹ اوپر سے کہیں معلوم ہوتی ہے
جگر کی چوٹ اوپر سے نہیں معلوم ہوتی ہے

ایک مونڈھے پر نیلے رنگ کا جھاڑن پڑا نظر آیا۔ اس میں سے ایک لمبی سی دَھجی پھاڑ کر پٹی باندھ لی۔ سہ پہر کو اینڈر سن کی نظر پڑی تو کہنے لگا کہ زخم پر کبھی رنگیں پٹی نہیں باندھنی چاہیے، پک جاتا ہے، خصوصاً برسات میں۔

دوسرے دن صبح دونوں کام پر جانے کے لیے تیار ہونے لگے تو بیگم دوپٹا اوڑھتے ہوئے کہنے لگیں کہ تمہارے ان لاڈلوں نے ناک میں دَم کر رکھا ہے اور کچھ نہیں تو کم بخت آدھا دوپٹا ہی پھاڑ کر لے گئے۔

ہم نے پٹی بجنسہٖ واپس کر دی اور جلدی جلدی ایک پھٹے پاجامے کے لٹھے کی سفید پٹی باندھ کر بینک چلے گئے۔
گیارہ بجے کسی کام سے اینڈرسن نے طلب کیا۔ واپس آنے لگے تو عینک کو ناک کی پھننگ پر رکھ کر اس کے اوپر سے دیکھتے ہوئے فرمایا: Just a minute, Tamerlane، تمہارے زخم نے چوبیس گھنٹے میں کافی مسافت طے کی ہے، دائیں سے بائیں پیر میں منتقل ہو گیا ہے۔

اب جو ہم نے نگاہ ڈالی تو دَھک سے رہ گئے۔ افراتفری میں آج دوسرے یعنی بائیں پیر پر پٹی باندھ کر آگئے تھے۔

(معروف مزاح نگار مشتاق یوسفی کی کتاب زرگزشت سے انتخاب)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں