site
stats
عالمی خبریں

مسلمانوں کا ٹرمپ ٹاور کے باہر افطار اور نماز ادا

نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام مخالف بیانات اور مسلمان ممالک پر پابندی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے مسلمانوں نے ٹرمپ ٹاور کے باہر روزہ افطار کیا اور نماز ادا کی۔ 

نیویارک میں ٹرمپ ٹاور کے باہر مسلمانوں نے پر امن احتجاج کیا اور اس دوران افطاری کے موقع پر تقریباً 100 مسلمان جمع ہوئے افراد نے ٹرمپ ٹاور کے باہر روزہ افطار کیا اور نماز ادا کی ۔

شرکاء نے سڑک کنارے بیٹھ کر چاول، چکن اور پیزا پر مشتمل افطاری کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے جبکہ امیگرنٹ ڈیفنس گروپس کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، احتجاج میں کئی غیر مسلم حامیوں نے بھی حصہ لیا۔

مین ہٹن میں واقع ٹرمپ ٹاور، ٹرمپ کے بزنس امپائر کا دل ہے، جہاں خاتون اول میلانیا ٹرمپ اپنے چھوٹے بیٹے کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔

ایونٹ کا انعقاد کرنے والی لنڈا سارسور کا کہنا تھا کہ ‘میں نے سوچا کہ بحیثیت ایک کمیونٹی یہی وقت ایک دوسرے کے قریب آنے کا اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ سابق امریکی صدور کی طرح ٹرمپ نے اس مرتبہ مسلمانوں کو افطار کے موقع پر وائٹ ہاؤس مدعو نہیں کیا، سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ مدعو کرتے بھی تو بھی میں مسلمانوں سے کہتی کہ وہ ایسی انتظامیہ کی توثیق نہ کریں جو تقسیم کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔


مزید پڑھیں :  ماہ رمضان: صدر ٹرمپ کی دنیا بھر کے مسلمانوں کو مبارکباد


واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بابرکت مہینے کے آغاز پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ  امید ہے کہ مسلمان دہشت گردی ختم کرنے میں مدد کریں گے، دہشت گردوں کی وحشیانہ کاروائیاں ماہ رمضان کی روح سے متصادم ہے۔ غلط نظریے پر گامزن دہشت گردوں کو شکست دینا ہوگی۔

ادھرامریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ وائٹ ہاوس نے گزشتہ بیس سال سے جاری افطاری کا پروگرام منسوخ کردیا ہے اور اس سال مسلمانوں کے ساتھ افطار کا کوئی پروگرام نہیں ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top