The news is by your side.

Advertisement

مصطفی نواز کھوکھر کا پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرہ لگانے کا دعویٰ

اسلام آباد: ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے قبل پیپلزپارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے بڑا دعویٰ کردیا ہے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے حکومتی اور اپوزیشن امیدواروں کے درمیان اہم مقابلہ آج اسلام آباد میں ہوگا، حکومت کی طرف سے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے صادق سنجرانی امیدوار ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ہے۔

ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لیے حکومت نے فاٹا سے سینیٹر مرزا محمد آفریدی کو نامزد کردیا، ان کا مقابلہ اپوزیشن امیدوار عبدالغفور حیدری سے ہے۔

ایوان بالا کے انتخاب سے قبل پیپلزپارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرہ لگانے کا دعویٰ کیا ہے، انہوں نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر ٹوئٹر کے زریعے کیا۔

مصطفی نواز کھوکھر نے لکھا کہ میں نے اور مصدق ملک نے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرہ لگا دیکھا ہے، مصطفی نواز کھوکھرنے خفیہ کیمرے کی تصویر بھی ٹوئٹر پر شیئر کردی ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر مصدق ملک نے بھی پولنگ بوتھ کے اوپر خفیہ کیمرہ لگائے جانے کا دعویٰ کیا ہے، لیگی رہنما نے الزام عائد کیا کہ پولنگ بوتھ میں دو کیمرےلگائے گئے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کو اپنےارکان پر اعتماد نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی رہنما شازیہ مری نے بھی سینیٹ ہال سے کیمرہ برآمد ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ووٹ کاسٹ کیاجاناتھ اوہاں سےکیمرہ برآمدہوا ہے، پی پی رہنما نے کہا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پراتری ہوئی ہے۔

سینیٹ اجلاس شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن نے پولنگ بوتھ کے اوپر کیمرہ لگنے پر احتجاج کیا ، اپوزیشن سینیٹرز اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، اس موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کیمرہ نکال دیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن نےدھاندلی کا پروگرام بنایا تھا اور ان کی ایما پر کیمرہ نصب کیا گیا تھا۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ انشااللہ ہم کامیاب ہوں گے اور عمران خان کی قیادت میں جیتیں گے جنہوں نےملک کوکھوکھلااور مفلوج کردیا انکی شکست ہو گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں