The news is by your side.

Advertisement

میانمار: مسلمانوں‌ کی زندگی جہنم بنانے والا بدنام زمانہ بھکشو رہا

میانمار: میانمار میں فوج نے قوم پرست بدھ مت بھکشو کو، جو نفرت انگیز مسلم مخالف تقاریر کے لیے بدنام ہیں، پیر کے روز جیل سے رہا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بدھ بھکشو آشن ویراتھو کو میانمار کی فوج نے رہا کر دیا، ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ملک کی سابقہ ​​سویلین حکومت کے خلاف عدم اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

میانمار میں مذہبی نفرت پھیلانے پر ٹائم میگزین نے 2013 میں ایک کور اسٹوری میں ویراتھو کو بدھسٹ دہشت گردی کا چہرہ کہا تھا، پیر کو فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ویراتھو کے خلاف تمام الزامات ختم کر دیے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق ویراتھو کا فوجی اسپتال میں علاج جاری تھا۔

ویراتھو 2012 میں مغربی ریاست راکھین میں بدھ مت اور نسلی اقلیت روہنگیا مسلمانوں کے درمیان خوف ناک فسادات کے بعد سرخیوں میں آگئے تھے، انھوں نے ایک قوم پرست تنظیم کی بنیاد رکھی جس پر مسلمانوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔

ویراتھو اور ان کے حامیوں کی قوم پرستی مہم شروع کرنے کے بعد دیگر نسلی گروہوں اور دیگر علاقوں کے مسلمانوں کو بھی اہانت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ویراتھو اور اس کے حامی بین المذاہب شادیوں کو مشکل بنانے والے قوانین کی حمایت میں بھی کامیاب رہے۔

میانمار میڈیا کا کہنا ہے کہ انھیں میانمار کی فوج کے ترجمان میجر جنرل زاؤ من تون کی طرف سے ویراتھو کی رہائی کی تصدیق موصول ہوئی ہے، تاہم کیس خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

خیال رہے کہ ویراتھو بدھ اکثریت والے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تعصب پیدا کرنے میں شامل رہے ہیں، ان کی اشتعال انگریز بیان بازی کی وجہ سے روہنگیا کے خلاف ظلم و ستم میں اضافہ ہوا اور لاکھوں لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

2017 میں پولیس چوکیوں پر مبینہ روہنگیا عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد فوج نے ایک وحشیانہ انسداد دہشت گردی مہم شروع کر دی تھی، جس کی وجہ سے 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور کئی مارے گئے۔

روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کے باعث وراتھو عوامی نظروں میں آیا، اور ان کی نفرت انگیز تقریروں پر عالمی توجہ مبذول ہوئی، فیس بک نے 2018 میں ان کا اکاؤنٹ بند کر دیا تھا، تاہم وہ دوسرے سوشل نیٹ ورکس پر موجود رہے اور ملک بھر میں اقلیت مخالف تقریریں کیں۔

نیشنل مونکس کونسل نے ان پر ایک سال تک عوامی تقریر کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن فیصلے پر سختی سے عمل درآمد نہیں کیا گیا، ویراتھو کے فوج کے ساتھ قریبی روابط مانے جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں