The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ بھی چائے کے بارے میں ان غلط فہمیوں کا شکار ہیں؟

چائے برصغیر کا مشروب خاص ہے۔ صرف جنوبی ایشیا میں ہی نہیں بلکہ ہر خطے میں اسے مختلف طریقہ کار سے بنایا جاتا ہے اور چائے کے دلدادہ ذوق و شوق سے اسے پیتے ہیں۔

برطانیہ میں صرف ایک دن میں سولہ کروڑ سے زائد چائے کے کپ پیے جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ بھی چائے کے بہت شوقین ہوں لیکن ہم آپ کو چائے کے بارے میں کچھ ایسے تصورات بتا رہے ہیں جن پر آپ یقین رکھتے ہوں گے لیکن درحقیقت وہ بالکل غلط ہیں۔


سبز چائے بہتر ہے

1

یہ ایک عام تاثر ہے۔ وزن گھٹانے کے لیے سبز چائے کا استعمال بہترین سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت سبز چائے اور سیاہ چائے دونوں ایک ہی پودے سے حاصل کی جاتی ہیں اور دونوں میں یکساں مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔


ٹی بیگ برطانویوں کی ایجاد ہے

3

یہ بالکل غلط تصور ہے۔ ٹی بیگ دراصل امریکیوں کی ایجاد ہے۔ گو کہ اس کے کچھ شواہد چین کی قدیم تاریخ میں بھی ملتے ہیں جس کے مطابق چائے کی پتیوں کو کپڑے میں ڈال کر استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن باقاعدہ ٹی بیگ امریکیوں کی دین ہے۔


مختلف چائے مختلف پودوں سے حاصل ہوتی ہے

2

اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ بالکل غلط ہیں۔ چائے چاہے سبز ہو، سیاہ ہو یا کوئی اور، یہ سب ایک ہی پودے سے حاصل کی جاتی ہیں۔


چائے میں دودھ مضر ہے

6

اس بارے میں کافی مطالعہ کیا جا چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چائے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات اس وقت زیادہ مؤثر ہوجاتے ہیں جب ان میں دودھ کی آمیزش کردی جاتی ہے۔


برطانیہ چائے کا شوقین ملک ہے

5

چائے کے سب سے زیادہ شوقین برطانیہ میں نہیں بلکہ آئرلینڈ میں بستے ہیں۔


ہربل چائے، چائے ہے

4

اگر آپ جڑی بوٹیوں والی چائے کو چائے سمجھ کر پیتے ہیں تو جان لیں کہ آپ چائے نہیں پی رہے۔ ہربل چائے میں جڑی بوٹیاں، مصالحے اور دیگر پودے تو ضرور شامل ہوتے ہیں مگر کیفین ہرگز نہیں ہوتی جو چائے کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ اسے چائے کی درجہ بندی سے خارج سمجھیں۔


اس مضمون کو پڑھ کر یقیناً آپ کی معلومات میں بے حد اضافہ ہوا ہوگا۔ جاتے جاتے داغ دہلوی کا ایک مشہور شعر بھی سنتے جائیے جسے نامور مزاح نگار شوکت تھانوی نے کچھ یوں بیان کیا۔

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
!چائے‘ کمبخت تونے پی ہی نہیں’


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں