The news is by your side.

کراچی: این اے 245 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم

کراچی: شہر قائد کے انتخابی حلقے این اے 245 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ شروع ہو چکی ہے، ووٹنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔

اس نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے محمود مولوی، ایم کیو ایم کے امیدوار معید انور، پی ایس پی کے سید حفیظ الدین، مہاجر قومی موومنٹ کے محمد شاہد اور ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا مد مقابل ہیں۔

فاروق ستار آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں موجود ہیں، مجموعی طور پر سیٹ کے لیے 15 امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ جب کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے امیدوار ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہوئے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی یہ نشست ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

این اے 245 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 5 لاکھ ہے، جو امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، 203 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس اور 60 حساس قرار دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمشنر سندھ کے مطابق انتخابی مراکز پر پولیس اور رینجرز اہل کار تعینات کر دیے گئے ہیں، جب کہ کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے جوان بھی اسٹینڈ بائی ہیں۔

حلقے میں 5 ہزار سے زائد اہل کار سیکیورٹی فرائض پر مامور ہیں، ہر پولنگ اسٹیشن پر پولیس کا دستہ 10 اہل کاروں پر مشتمل ہے، جب کہ رینجرز سو سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر موجود ہیں۔

پولنگ میں‌ تاخیر

بعض پولنگ اسٹیشنز پر ایجنٹس کے بروقت نہ پہنچنے کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا عمل تاخیر کا شکار ہوا، پولنگ اسٹیشن نمبر 125 اور 130 خدادا داد کالونی، پولنگ اسٹیشن 23 سے 25 پی ای سی ایچ ایس بلاک تھری میں‌ پولنگ مقررہ وقت پر شروع نہ ہو سکنے کی شکایت موصول ہوئیں۔

پریزائڈنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ انتظامات مکمل ہیں تاہم پولنگ ایجنٹ نہ آنے کی وجہ سے پولنگ شروع ہونے میں‌ تاخیر ہوئی، ڈی آر او علی اصغر سیال نے پولنگ اسٹیشن 23 سے 25 پی ای سی ایچ ایس بلاک تھری کا دورہ کیا، جہاں پولنگ ایجنٹس نہیں پہنچے وہاں سیکیورٹی انچارج کے سامنے بیلٹ باکس سیل کیے گئے۔

میڈیا کوریج

ڈی آر او علی اصغر سیال کے مطابق میڈیا کو پولنگ اسٹیشنز پر کوریج کی اجازت ہے، انھوں نے کہا جن پولنگ اسٹیشن پر کوریج سے روکنے کی شکایت آئی ہے وہاں بات کروں گا۔

ووٹنگ کا عمل سست روی کا شکار

گورنمنٹ اسلامیہ گرلز کالج کے پولنگ اسٹیشنز میں دس بجے تک صرف 24 ووٹ کاسٹ ہوئے، یہاں 6 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں، پولنگ اسٹیشن 110 میں 3 مرد ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا، 111 میں مردوں کے چار ووٹ کاسٹ ہوئے، 112 میں ایک خاتون نے، 113 میں دو مردوں اور ایک خاتون، 114 میں 5 خواتین اور چار مردوں، 115 میں صرف چار مردوں نے ووٹ کاسٹ کیا۔

سندھی مسلم سوسائٹی کے گرلز بواٸز پراٸمری اور سیکنڈری اسکول میں واقع 4 پولنگ اسٹیشنز پر بھی پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہے، پولنگ عملہ ووٹرز کے انتظار میں بیٹھا ہے، چھٹی کے باعث بھی ووٹرز کا پولنگ اسٹیشنز پر رش کم ہے۔

الیکشن کمیشن کی اپیل

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ عوام بلاخوف و خطر گھر سے ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں، گڑ بڑ کرنے والوں اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا، الیکشن کے پُرامن انعقاد کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے ہیں، پاک آرمی اور رینجرز بھی حلقے میں موجود ہیں، کسی بھی صوبائی اور وفاقی وزیر ماسوائے ووٹرز کو حلقہ میں داخلے کی اجازت نہیں، تمام اُمیدواروں کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جائے گا۔

پریذائیڈنگ افسران کون؟

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے یہ الزام کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پریذائیڈنگ آفیسرز لگا دیا گیا ہے، سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ انھوں نے کہا تمام پریذائیڈنگ افسران سرکاری ملازم ہیں، اور ان کی تعیناتی قانون کے مطابق کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی رکن اسمبلی پولنگ اسٹیشن پر

ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے پکڑے گئے، اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ ایم کیو ایم پولنگ ایجنٹس کا کہنا تھا کہ فردوس شمیم نقوی انتخابات پر اثر انداز ہو رہے ہیں، یہ الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے، نہ حلقے میں ان کا ووٹ ہے نہ وہ پولنگ ایجنٹ ہیں اس کے باوجود وہ پٹیل پاڑہ اور دیگر علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز کے اندر گئے۔

پولنگ کے عمل میں ایک گھنٹے کا اضافہ

پولنگ اسٹیشن نمبر 143، سولجر بازار میں پولنگ کے دوران بدنظمی کے باعث پولنگ کا عمل رک گیا، جس پر آر او اور ڈی آر او پہنچ گئے۔ ڈی آر او علی اصغر سیال نے  پولنگ کا عمل دوبارہ شروع کر دیا، اور پولنگ کے عمل میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پریزائڈنگ افسر محبوب نے تمام فارم اور لفافے پر تمام پولنگ ایجنٹس سے قبل از وقت دستخط کروا لیے تھے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی گئی، یہ واقعہ پولنگ اسٹیشن نمبر 143 اور 144 میں ہوا۔ تاہم ڈی آر او نے تمام فارم منسوخ کر دیے ہیں، پولنگ کا عمل ایک گھنٹے کے لیے رک گیا تھا، اس لیے پولنگ اسٹیشن میں اب شام 6 بجے تک پولنگ جاری رہے گی۔

سولجر بازار، گرما گرمی

وقت گزرنے کے ساتھ ضمنی انتخاب کے ماحول میں گرما گرمی آ گئی ہے، سولجر بازار میں تین سیاسی جماعتوں کے کارکنان آمنے سامنے آ گئے، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم پاکستان اور ٹی ایل پی کے کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی، پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار کارکنان کے ہمراہ پہنچ گئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں