تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

NA-248 : خالد مقبول صدیقی کی کامیابی سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج

کراچی: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 248 سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی کی کامیابی سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔

خالد مقبول کی کامیابی کو پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ارسلان خالد نے بیرسٹر علی طاہر کے توسط سے چیلنج کیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ فارم 45 کے تحت ارسلان خالد بڑے مارجن سے کامیاب ہو رہے تھے، آر او نے فارم 47 مرتب کرتے وقت تمام امیدواروں اور نمائندوں کو باہر نکال دیا تھا۔

درخواست گزار نے کہا کہ نتائج تبدیل کر کے خالد مقبول صدیقی کو ایک لاکھ 3 ہزار 82 ووٹ سے کامیاب قرار دیا، ایم کیو ایم پاکستان رہنما کی کامیابی کا آر او کی جانب سے جاری فارم 47 کالعدم قرار دیا جائے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے این اے 238 کے نتائج کو چیلنج کر رکھا ہے۔ اس حلقے سے ایم کیو ایم پاکستان امیدوار صارق افتخار کامیاب قرار پائے۔

حلیم عادل شیخ نے اٹارنی کے ذریعے بیرسٹر علی طاہر کے توسط سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ فارم 45 کے مطابق حلیم عادل شیخ نے حلقے میں 71 ہزار سے زائد ووٹ لیے، فارم 47 میں نتائج کو تبدیل کر کے ایم کیو ایم امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ امیدوار صادق افتخار کو 54 ہزار ووٹوں سے کامیاب قرار دے دیا گیا۔ اس میں استدعا کی گئی کہ صارق افتخار کو کامیاب قرار دیے جانے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

Comments

- Advertisement -