حدیبیہ پیپرملزکیس، نیب نےسپریم کورٹ میں نئی درخواست دائرکردی
The news is by your side.

Advertisement

حدیبیہ پیپرملزکیس، نیب نےسپریم کورٹ میں نئی درخواست دائرکردی

اسلام آباد : نیب نے حدیبیہ پیپرملزکیس کیلئے سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائرکردی، جس میں کہا گیا کہ نواز شریف حدیبیہ پیپرکیس میں اپیل دائرکرنے پر اثر انداز ہوئے، عدالت اپیل میں تاخیرنظراندازکرکےکیس کھولنےکی اجازت دے۔

تفصیلات کے مطابق نیب نے حدیبیہ پیپرملزکیس کھولنے کیلئے سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائرکردی، نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عمران الحق نے درخواست دائر کی۔

درخواست میں عدالتی حکم کے 3سال بعد اپیل دائرکرنے کا جواز پیش کیا۔

دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ نواز شریف حدیبیہ پیپرکیس میں اپیل دائرکرنےپراثراندازہوئے، عدالتی غلطی یاججزکی غیر سنجیدگی
سے کیس کوہٹایا نہیں جاسکتا دوبارہ تحقیقات کی استدعامسترد کرنا انصاف کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔


مزید پڑھیں : حدیبیہ پیپرزملز کیس: سپریم کورٹ نےنیب سےتمام ریکارڈ طلب کرلیا


درخواست میں استدعا کی گئی عدالت اپیل میں تاخیرنظراندازکرکے کیس کھولنے کی اجازت دے۔

حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نےنیب سےتمام ریکارڈ طلب کرلیا تھا جبکہ نیب کی جانب سے ایک۔ماہ کی مدت دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہم کیس جلد سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی تھی۔

یاد رہے کہ پانامہ کیس کے دوران عدالت کے سامنے نیب نے اس کیس میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کیس میں پنجاب کے وزیر اعلی شہبازشریف کا نام شامل ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے نیب کا ریفرنس خارج کرتے ہوئے نیب کو حدیبیہ پیپرز ملز کی دوبارہ تحقیقات سے روک دیا تھا۔


مزید پڑھیں :  حدیبیہ پیپر ملز، اسحاق ڈار کے خلاف بحثیت ملزم تحقیقات کا آغاز


جس کے بعد نیب نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور اب سپریم کورٹ آف پاکستان اس کیس کو دوبارہ کھولنے جارہی ہے جبکہ حدیبیہ کیس کےحوالےسے چیئرمین نیب کوبھی عدالت میں طلب کیا گیا تھا ۔

خیال رہے کہ یہ کیس شہباز شریف کی سیاست کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے

واضح رہے کہ حدیبیہ ریفرنس سترہ سال پہلےسن دوہزارمیں وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے اعترافی بیان پرنیب نےدائرکیاتھا۔انہوں نےبیان میں نوازشریف کے دباؤپرشریف فیملی کے لیے ایک ارب چوبیس کروڑ روپےکی منی لانڈرنگ اورجعلی اکاؤنٹس کھولنےکااعتراف کیاتھا۔

شریف برادران کی جلاوطنی کے سبب کیس التواءمیں چلا گیا تھا ۔ سنہ 2011 میں شریف خاندان نے اس کیس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا‘ عدالتِ عالیہ نےاحتساب عدالت کوکیس پرمزیدکارروائی سےروکا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں