The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کی بیرونِ ملک ممکنہ روانگی، نیب افسران کے شدید تحفظات

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے افسران نے نوازشریف کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔

ذرائع کے مطابق ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کے معاملے پر نیب افسران میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ قومی احتساب بیورو کے افسران نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ نوازشریف نے بیرونِ ملک بھیجنا مقصود ہے تو پلی بارگین کے بعد بھیجا جائے، نیب نام نکالنے کے فیصلے کا حصہ نہیں بنے گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کااجلاس کل طلب کرلیا، اس ضمن میں نوٹسز جاری کردیے گئے، شہباز شریف یا نمائندے اور نیب حکام کو بھی کل طلب کیا گیا جب کہ سیکریٹری ہیلتھ اور حکومتی میڈیکل بورڈ بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو بیرون ملک کیسے لے کر جایا جائے؟ ن لیگ تذبذب کا شکار

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف پاکستان سے ممکنہ طور پر 12 نومبر کو لندن روانہ ہوں گے۔ نوازشریف کی 12 نومبر کو ممکنہ روانگی کی ٹکٹ بھی منظر عام پر آئیں جن کے مطابق سابق وزیر اعظم کل صبح نجی ائیرلائن سے لندن روانہ ہوں گے۔

نوازشریف کا علاج

ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ نے سرکاری بورڈکو تمام رپورٹس جمع کرادیں، جس کے بعد تیسری رپورٹ بھی مکمل کرلی گئی۔

میڈیکل بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف  مختلف جان لیوا بیماریوں میں مبتلاہیں، وہ 19سال سےامراض قلب جبکہ 10 سال سے شوگر اور بلڈپریشر، گردوں، جوڑوں کے درد اور اب پلیٹ لیٹس کی کمی کا شکار ہیں۔

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوازشریف کوبون میرو،پیٹ اسکین اورجینیٹک ٹیسٹ کی ضرورت ہے کیونکہ اُن کے پلیٹ لیٹس میں بدستور کمی ہورہی ہیں، سابق وزیراعظم کی بیماری کی تشخیص تاحال معمّہ ہے اور انہیں اس وقت خصوصی ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ نوازشریف کا نام تاحال ای سی ایل (ایگزیٹ کنٹرول لسٹ) سے نہیں نکالا گیا جس کی وجہ سے انہیں بیرونِ ملک جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں