The news is by your side.

Advertisement

علیم خان کو نیب حوالات منتقل کردیا گیا

علیم خان نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوادیا

لاہور: قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سینئر صوبائی وزیرعبدالعلیم خان کو حراست میں لے لیا ہے، ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب کے سینئر وزیر بلدیات اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ علیم خان کو آف شور کمپنی اور آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب آفس میں پیشی کے موقع پرعلیم خان سے مختلف سوالات کیے گئے جبکہ 2 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد انہیں حراست میں لے لیا۔ان کی گرفتاری سے متعلق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے،باقاعدہ گرفتاری کرکے انہیں حوالات منتقل کردیا گیا ہے، انہیں گھر سے ضروری سامان منگوانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

علیم خان کا کہنا ہے کہ مقدمات کاسامناکریں گے،آئین اورعدالتوں پریقین ہے۔ انشا اللہ اس معاملےمیں سرخروہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرےخلاف آمدن سےزائداثاثوں کانہیں،آف شورکمپنیوں کامقدمہ ہے۔

علیم خان کی گرفتاری کی وجوہات سامنے آگئیں

بلا امتیاز احتساب سے متعلق ہماری شکایت دور ہوگئی: اپوزیشن 

قانون سب کے لیے ایک ہے، شیخ رشید

گرفتاری کے بعد علیم خان نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھجوادیا ہے۔

علیم خان کے خلاف آف شورکمپنی اورآمدن سےزائداثاثہ جات کیس میں تحقیقات جاری ہیں، وہ اس سے پہلے بھی تین بار نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہو چکے ہیں۔

علیم خان سنہ 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے ، گزشتہ سات سال سے وہ اس جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل وہ مشرف دور میں پنجاب حکومت میں آئی ٹی کے صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، ان کی وزارت کا دورانیہ سنہ 2003 سے 2007 تک محیط ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب حکومت کا حصہ بننے سے قبل علیم خان نے دعوی ٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف دس اداروں میں تحقیقات ہوئی ہیں، 130 مختلف دستاویزات جمع کروا نے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ایک موقع پر علیم خان نے کہا تھا کہ یا تو انہیں گرفتار کیا جائے یا پھر ان کے خلاف مقدمات ختم کیےجائیں۔


یہ خبر ابھی اپ ڈیٹ کی جارہی ہے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں