The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاؤنٹس کیس : آصف زرداری21جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اسلام آباد: احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدرآصف زرداری کو 21 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کےحوالے کردیا، نیب نے آصف زرداری کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدرآصف زرداری کو احتساب عدالت پہنچا دیا گیا ،انھیں عقبی دروازے سے عدالت پہنچایاگیا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق سماعت میں آصف زرداری کواحتساب عدالت میں پیش کردیاگیا، سماعت میں نیب حکام نے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی ، جس پر آصف زرداری کےوکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔

نیب کی جانب سے آصف زرداری کی گرفتاری سے متعلق شواہد عدالت میں پیش کئے گئے، جس میں کہا گیا جعلی اکاؤنٹس ٹرانزیکشن سےغیرقانونی آمدن کوجائزکرنےکامنصوبہ تھا، آصف زرداری نےفرنٹ مین وبےنامی داروں سےمنی لانڈرنگ کی، آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے 8 ٹھوس گراؤنڈز ہیں۔

آصف زرداری کی 2 میڈیکل رپورٹس احتساب عدالت میں پیش گئیں ، نیب پراسیکیوٹرسردارمظفر نے کہا بینک حکام کی معاونت سےجعلی اکاؤنٹس کھولےگئے، ملزم کوگرفتار کیا ہے، تفتیش کے لئے ریمانڈ کی ضرورت ہے، جس پر احتساب عدالت کے جج کا کہناتھا آصف زرداری کوکن بنیادوں پرگرفتارکیا پہلے یہ بتائیں۔

سردارمظفرعباسی نے بتایا میں گرفتاری کی بنیاد پڑھ کر بتادیتاہوں، کمرہ عدالت میں دیگرافرادکی گفتگوپرجج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا پہلےآپ باتیں کرلیں میں کیس بعدمیں سن لیتاہوں، آپ عدالتی کارروائی سننےآئےہیں توباتیں نہ کریں۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا آصف رادری کوضمانت خارج ہونےپرگرفتارکیاگیا، ملزم کی گرفتاری کیلئےتمام ترقانونی تقاضےپورےکیےگئے ، بادی النظرمیں آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کے بینفشری ہیں۔

سردارمظفر نے بتایا جعلی اکاؤنٹس کےذریعے4.4ارب روپےکی منی لانڈرنگ کی گئی، آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کےذریعےمنی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، انھوں نےاومنی گروپ کوجعلی اکاؤنٹس کیلئےاستعمال کیا، اومنی گروپ نےزرداری اورجعلی اکاؤنٹس میں پل کاکرداراداکیا، آصف زرداری کےجسمانی ریمانڈکی منظوری کیلئے کافی ثبوت ہیں۔

سابق صدرآصف ذرداری کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے آصف زرداری کی نیب حوالات میں اضافی سہولتوں کی درخواست کردی، آصف زرداری نے کہا ایک خدمت گزارساتھ رکھنےکی اجازت دی جائے اور میڈیکل کی بھی تمام سہولتیں مہیا کی جائیں۔

نیب کی جانب سے آصف زرداری کے میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کئے گئے ، سردارمظفرعباسی کا کہنا تھا گرفتاری کےبعدآصف زرداری کاطبی معائنہ کرایا، آصف زرداری مکمل صحت منداورفٹ ہیں، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا ان کی اپنی دستاویزمیں بلڈ پریشر سامنے لکھا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ معمولی بیماریاں پہلےسےموجودتھیں،فاروق نائیک نے کہا یعنی آپ خودتسلیم کررہےہیں زرداری مکمل فٹ نہیں ہیں، جس پر سردارمظفرعباسی کا کہنا تھا آصف زرداری کوکوئی ایسی خطرناک بیماری نہیں ہے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا سپریم کورٹ نےتحقیقات کیلئےجےآئی ٹی تشکیل دی، جےآئی ٹی سےیہ کیس نیب کومنتقل کر دیاگیا، نیب کو تفتیش اور ریفرنس کیلئے2ماہ کاوقت دیاگیا، نیب نےمدت میں توسیع کیلئےعدالت سےرجوع نہیں کیا اور سپریم کورٹ نےنیب کودی گئی مدت میں توسیع نہیں کی، مدت میں توسیع نہ ہونےپرنیب تفتیش نہیں کرسکتی۔

وکیل آصف زرداری نے کہا چیئرمین نیب کےپاس وارنٹ جاری کرنےکااختیارنہیں، ایف آئی آرمیں درج ہے بینکرز نےجعلی اکاؤنٹ کھولے، ایف آئی آر کے مطابق ڈیڑھ کروڑ روپے مجھے بھیجےگئے، ایف آئی آر میں میرانام بطورملزم درج ہی نہیں ہے، اسلم خان اورعارف خان ملزم نامزد ہیں، جعلی اکاؤنٹس سےمیرا توکوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

فاروق ایچ نائیک نےآصف زرداری کی رہائی کی استدعا کرتے ہوئے کہا ضمانت کی درخواست پرکہا گیاکیس لاز دےدیں، میں وہ فوٹو کاپیز کرانےگیا تو ضمانت منسوخی کا آرڈر ہوگیا، کیس میں26 ملزمان ہیں، صرف زرداری کوگرفتار کیاگیا، ان کوگرفتارکرکےامتیازی سلوک کیا گیا۔

وکیل صفائی نے استدعا کی ریفرنس عدالت میں زیرسماعت ہے،تفتیش کامرحلہ نہیں، عدالت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنےکاحکم دے۔

فاروق نائیک کا کہنا تھا نیب نےزرداری کوگرفتارکرکےعدالت کی توہین کی، ضمانتی مچلکےاس عدالت میں جمع ہیں پھربھی گرفتارکرلیا؟آصف زرداری کی رہائی کےاحکامات جاری کردیں، ہائیکورٹ کااس گرفتاری سےتعلق نہیں اس عدالت کاہے، صرف ڈیڑھ کروڑ لینے پر جیل میں ڈال دیاگیا یہ کون ساانصاف ہے؟

نیب پراسیکیوٹرنے کہا عدالت کےمچلکوں کاچیئرمین نیب کےوارنٹس سےتعلق نہیں ، سپریم کورٹ نےحکم دیاتھااورہر2ہفتےبعدرپورٹ دی گئی، کل آصف زرداری کوگرفتارکیاگیا، انھیں گراؤنڈزآف اریسٹ فراہم کیےاورانہوں نےدستخط کیے۔

عدالت نے پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا نیب نے عدالت سے اجازت کیوں نہیں لی، ریفرنس یہاں چل رہاہےتو نیب کواس عدالت سے اجازت لینی چاہیے تھی، فاروق ایچ نائیک نے کہا بات یہ ہے نیب نے عدالت کو اعتماد میں بھی نہیں لیا۔

وکیل نیب نے بتایا نیب نےخود نہیں بلکہ ہائی کورٹ نے ضمانت خارج کی توگرفتار کیا گیا، جس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا پھر عدلیہ کی آزادی کہاں گئی، جوڈیشل کسٹڈی ہواورکسی اورکیس میں تحقیقات کرنی ہوں تواجازت ضروری ہے۔

جج احتساب عدالت نے کہا آپ کے دلائل سے پہلے بھی اسی بات کو سوچ رہا تھا، میں نے مچلکے منظور کیے تو معلوم کیاتھا کیا وارنٹ جاری کیے ہیں، وکیل کا کہنا تھا جج احتساب عتب انہوں نے مچلکے لینے کے عدالتی فیصلے کی مخالفت بھی نہیں کی۔

آصف زرداری کا کہنا تھا شوگر کا مریض ہوں اور رات کوشوگر کم ہو جاتی ہے، مجھے اٹینڈنٹ دیاجائے جو رات کوشوگر چیک کرے، جس پر وکیل نیب نے کہا آصف علی زرداری ان کی زندگی کا مسئلہ ہےاور ہمارا اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ، عدالت کو بھی اٹینڈنٹ پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

آصف علی زرداری نے مزید کہا اٹینڈنٹ 24 گھنٹے میرے پاس بیٹھا نہیں رہے گا ، جب ضرورت ہو گی تو بلایا جائے گا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس سےمتعلق سماعت میں آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدرآصف زرداری کو 21 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کےحوالے کردیا۔

پیشی سے قبل پولی کلینک کے 3رکنی بورڈ کی جانب سے آصف زرداری کاطبی معائنہ کیا گیا تھا ، جس میں‌ شوگر، بلڈ پریشر سمیت ان کے تمام ٹیسٹ معمول کے مطابق نکلے اور انھیں پیشی کے لئے فٹ قرار دیا تھا۔

پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اندراور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، 300 اہلکار نیب راولپنڈی آفس کی سیکیورٹی جبکہ نیب عدالت کے باہر500اہلکار اور نیب راولپنڈی آفس سےنیب عدالت تک 200ٹریفک اہلکار تعینات تھے۔

نیب راولپنڈی کے دونوں اطراف کی سٹرکیں مکمل بند کردی گئی جبکہ نیب عدالت کےجی الیون روڈبھی سیکیورٹی کی وجہ سے بند رہی ، نیب عدالت اور نیب راولپنڈی کے باہر رینجرز اہلکارگشت پر مامور رہے۔

پی پی کارکنان آئے تو آبپارہ چوک سےآگےجانےکی اجازت نہیں ہوگی ، پی پی کارکنان نیب عدالت پہنچےتوان کوپراجیکٹ موڑپرروک لیا جائے گا۔

نیب  کی آصف زرداری کی اٹینڈینٹ رکھنےکی درخواست منظور


دوسری جانب نیب نےآصف زرداری کی اٹینڈینٹ رکھنےکی درخواست منظور کرتے ہوئے دن اور رات کے اوقات میں اٹینڈنٹ ساتھ رکھنے کی اجازت دے دی، نیب ذرائع کا کہنا ہے آصف زرداری کے اٹینڈنٹ نہال چند نیب راولپنڈی پہنچ گئے جبکہ دوسرا اٹینڈنٹ لیاقت علی آج کسی بھی وقت نیب راولپنڈی پہنچ جائے گا۔

مزید پڑھیں : جعلی اکاؤنٹس کیس ، نیب نے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کرلیا

یاد رہے گزشتہ روز سابق صدرآصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹ کیس اوردیگرمقدمات میں عبوری ضمانت کی مدت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے پرگرفتار کیاگیا تھا۔

نیب ٹیم نے آصف زرداری کو نیب ہیڈکوارٹرز راولپنڈی پہنچایا، جہاں انہیں حوالات کےخصوصی کمرے میں رکھا گیا۔

گرفتاری کے بعد پولی کلینک کے3رکنی میڈیکل بورڈ نے سابق صدرآصف زرداری کا طبی معائنہ کیا تھا، کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹرآصف عرفان میڈیکل بورڈ کے سربراہ ہیں جبکہ ڈاکٹر حامد اقبال، نیب سرجن ڈاکٹر امتیاز احمد بورڈ کا حصہ ہیں۔

آصف زرداری نے مطمئن اندازمیں ڈاکٹرز کے سوالات کے جوابات دیئے اور میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کو صحت مندقرار دے دیا تھااور آصف زرداری کے کلینیکل ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا تھاجبکہ بورڈ نے مختلف کلینکل ٹیسٹ تجویز کئے تھے۔

بعد ازاں میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کے دوبارہ طبی معائنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی اور گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے نیب نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف رزداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں، کیس میں آصف زرداری،فریال تالپورکی عبوری ضمانت میں 6 بار توسیع کی جا چکی تھی۔

آصف زرداری اور فریال تالپور پر جعلی اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کاالزام ہے جبکہ جعلی اکاؤنٹس کا مقدمہ احتساب عدالت میں زیر التوا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں