The news is by your side.

Advertisement

"بحران عمران خان نے پیدا کیا، فائدہ بھی انہیں ہی ہورہا ہے”، ندیم افضل چن کا سنسنی خیز انٹرویو

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم چن افضل کا کہنا ہے کہ بحران پیدا بھی خان صاحب نےکیا اور فائدہ بھی انہی کو ہورہا ہے، چار ماہ پہلے خان صاحب کی مقبولیت کم تھی اور اب اوپر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ندیم چن افضل نے ملکی مسائل پر کھل کر گفتگو کی اور موجودہ سیاسی صورت حال پر اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں پر بات کی۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ صورت حال کے باعث اتحادی جماعتوں کو سیاسی نقصان ہوا ہے، ن لیگ مؤقف ہے کہ حکومت نہ لیتےتو اور نقصان ہوتا، کچھ خواہشات بھی تھیں، انہی خواہشات کی وجہ سےپی ٹی آئی حکومت کو جلدی بھیجنا مقصود تھا۔ ندیم چن نے کہا کہ میں اتفاق کرتا ہوں کہ بحرانوں میں اتحادی جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے، نمائندہ خصوصی اے آر وائی نیوز نے ان سے سوال کیا کہ کیا زرداری صاحب نے نوازشریف کوپھنسا دیا ہے؟ جس پر پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ کوئی کسی کون ہیں پھنساتا اتنا "کاکا” کوئی بھی نہیں ہے،ہ ر کسی کی اپنی خواہشات اور مجبوریاں ہوتی ہیں مگر حکومت کو پورا اختیارات نہ ملے تو چھوڑ دینی چاہیے جس کہ وجہ یہ ہے کہ کرسی کی لالچ اورمجبوریاں بحران ہی پیدا کرتی ہیں۔

عمران خان کی سیاست سے متعلق ندیم افضل چن نے کہا کہ اس سارے بحران کا فائدہ کس کو ہوا؟ خان صاحب کو ہوا، بحران پیدا بھی خان صاحب نےکیا اور فائدہ بھی انہی کو ہورہاہے، چار ماہ پہلے خان صاحب کی مقبولیت کم تھی اور اب اوپر آگئی ہے، اگر شفاف انتخابات نہیں ہوتے تو پھر یہ سب کچھ پلاننگ کےتحت ہورہاہے۔

ملکی معاشی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ مشکل فیصلوں کیلئےسیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہےجو ابھی کون ادا کرے گا؟ اگر کہا جائے کہ بجٹ کےبعد حکومت چھوڑد یں تو کون کرےگا مشکل فیصلے؟ سنجیدہ مذاکرات ہورہےہیں اکنامک ریفارمز کریں یاحکومت چھوڑدیں، ملک کی حالات بدتر ہیں اس لیے سب کو تھوڑی قربانی دیناہوگی۔رہنما پیپلزپارٹی نے انکشاف کیا کہ اسوقت اسلام آباد میں تین تھیوریاں چل رہی ہیں پہلی تھیوری یہ کہ بجٹ کے بعد حکومت جائے، دوسری تھیوری صوبےنہیں وفاق میں انتخابات ہوں، تیسری تھیوری ہے کہ ٹیکنوکریٹ حکومت لائی جائے، موجودہ صورت حال میں کچھ ٹیکنوکریٹس اسلام آباد میں وی آئی پی پروٹوکول میں پھر رہےہیں۔

ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں اسٹیبلشمنٹ کافی نیوٹرل ہوگئی ہے مزید ہو تواور بہترہوگا،ن لیگ والے پریشان ہیں کہ پچھلا سارا گند ان کےاوپرڈالا جارہاہے، حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہر کرائسز کے بعدپیپلزپارٹی کوحکومت دی گئی، جب کرائسز سنبھل جاتا ہے تو سارے ٹھیکیدار بن جاتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل میاں صاحب کو کرائسز ختم ہونےپر حکومت ملتی تھی، یہ پہلی بار ہے کہ میاں صاحب کو مشکل وقت میں حکومت ملی ہے، کرائسز میں حکومت آسان نہیں، اس وقت سارے ادارے پریشان ہیں، گذشتہ کچھ دنوں میں جو واقعات ہوئےان کو اتفاق نہیں بلکہ منصوبہ بندی سمجھتا ہوں کیونکہ یہاں کچھ لوگ دوہزاراٹھائیس تک کی پلاننگ کرکے بیٹھے ہوئے تھے ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں