The news is by your side.

Advertisement

ہنوز دلی دور است؟؟ ۔۔ آج نادرشاہ نے دہلی فتح کیا تھا

دہلی وہ بد نصیب شہر ہے جو اپنی تما م تر تاریخ میں بیرونی حملہ آوروں کی پہلی ترجیح رہا ، خصوصاً وسط ایشیائی ممالک ہمیشہ سے اپنے خزانے دہلی کو لوٹ کر بھرتے رہے ہیں۔

آج ہی کے دن یعنی 22 مارچ 1739 کو ایران کے شہنشاہ نادر شاہ افشار نے مغل فرماروا محمد شاہ رنگیلا کو شکست دے کر دہلی میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا تھا۔یقیناً آج کا دن برصغیر کی تاریخ کا ایک المنا ک دن تھا۔

نادر شاہ افشار ، ایران میں افشار خاندان کا بانی حاکم تھا، اس نے آٹھ مارچ 1736 کو سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ا پنی حکومت کے انصرام کے لیے اسے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی اور ان دنوں تخت دہلی دولت سے مالامال لیکن عسکری لحاظ سے انتہائی کمزور تھا۔ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں جس زوال کی بنیاد رکھی گئی تھی ، وہ اب سامنے آچکا تھا۔

اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے نادر شاہ نے ہندوستان کے دروازے یعنی درہ خیبر کے ذریعے مئی 1738 میں شمال مشرقی سرحدی صوبوں پر حملے شروع کیے اور اور مارچ 1739 میں وہ دہلی سے سو کوس دور کرنال کے مقام پر مغل شہنشاہ سے حتمی جنگ کے لیے خیمہ زن ہوا۔

دوسری جانب اپنے عروج کے دنوں میں اکبر، شاہجہاں اور اورنگزیب جیسے عظیم جرنیل حاکموں کے ہاتھ میں رہنے والی مغل سلطنت اب اورنگ زیب کے پرپوتے محمد شاہ رنگیلا کے ہاتھ میں تھی۔ وہ 1702 میں میں پیدا ہوئے تھے، ان کا پیدائشی نام روشن اختر تھا۔1719 میں سید برادران نے محض 17 برس کی عمر میں تخت پر بٹھا کر ابوالفتح نصیر الدین روشن اختر محمد شاہ کا خطاب دیا، شاعری سے رغبت ہونے کے سبب وہ’ سدارنگیلا‘ تھا۔ ان کی زندگی میں ہی عوام اور خواص میں ان کی شہرت ’ محمد شاہ رنگیلا‘ کےنام سے ہوگئی تھی اور آج بھی انہیں اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔

محمد شاہ نے نادر شاہ کے حملے تک کوئی جنگ نہیں لڑی تھی ، ان کا سارا وقت درباری گویوں، مراثیوں ، رقاصاؤں، قصہ گوئی کرنے والوں اور دیگر فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کی صحبت میں گزرتا تھا۔ تیموری خون جو کبھی ہندوستان کے طول وعرض میں تیغ کے جوہر دکھایا کرتا تھا اب شاعری کی بندشوں اور مصوری کے خطوں میں الجھا ہوا تھا۔ کاروبار سلطنت سارا امرا کے ہاتھ میں تھا اور وہ نادر شاہ کے خطرے کا ادراک کرکے محمد شاہ کو مسلسل اس کے بارے میں اطلاع دے رہے تھے، بجائے اس کے کہ دہلی سے باہر نکل کر نادر شاہ کو راستے میں کہیں روکا جاتا۔۔ محمد شاہ نے ایک ہی گردان لگائے رکھی کہ ۔۔ ’’ہنوز دلی دور است‘۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نادرشاہ کرنال تک پہنچ گیا۔

چارو ناچار محمد شاہ رنگیلا کو جنگ کے لیے نکلنا پڑا ، ان کے لشکر میں ایک لاکھ سپاہی اور اس سےزیادہ تعدا میں گویے ، مراثی ، مالشیے اور اسی نوعیت کے دیگر سول افراد موجود تھے۔ سپاہیوں نے بھی طویل عرصے سے کوئی جنگ نہیں دیکھی تھی اور ان کی تیغیں زنگ کھا چکی تھیں۔ دوسری جانب نادر شاہ کے ساتھ 55 ہزار ایسے لڑاکے تھے جو ایران سے دہلی تک جنگ کی بھٹی میں تپ کر کندن بن چکے تھے۔ تین ہی گھنٹے میں جنگ کا فیصلہ ہوگیا اور نادر شاہ دہلی میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا، پیچھے محمد شاہ رنگیلا قیدی بنے کھڑے تھے ۔۔۔ صد حیف کے چند ہی گھنٹوں میں مغل تاجدار کا یہ حال ہو چکا تھا۔

نادر شاہ نے لگ بھگ پونے دو مہینے قیام کیا ۔۔۔ اس دوران افواہ پھیل گئی کہ نادر شاہ قتل ہوگیا تو دہلی کے عوام نے نادر شاہی سپاہیوں پر حملے شروع کردیے۔ جس کے بعد وہ قتا ل ہوا کہ دہلی والوں نے صدیوں سے ایسا قتال نہ دیکھا تھا۔ گلیاں خون سے بھر گئیں، ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ نجانے کتنی ہی خواتین نے اپنے آنگن کے کنووں میں کود کر اپنی جان دے دی، یہاں تک کہ محمد شاہ رنگیلا کا وزیر نظام الملک قتال میں مشغول نادر شاہ کے سامنے اس حال میں آیا کہ نہ سر پر پگ تھی اور نہ ہی پیروں نعلین۔اسی حال میں اس نے خسرو کا شعر پڑھا:

دگر نمانده کسی تا بہ تیغ ناز کشی … مگر کہ زنده کنی مرده را و باز کشی

.(اور کوئی نہیں بچا جسے تو اپنی تیغِ ناز سے قتل کرے ۔۔۔ سوائے اس کے کہ مردوں کو زندہ کرے اور دوبارہ قتل کرے)

اس کےبعد نادر شاہ نے قتال سے ہاتھ روکا لیکن لوٹ مار کا بازار گرم کردیا۔ دہلی کے کسی گھر میں کوئی قیمتی شے نہ بچی، شاہی محل کا خزانہ جسے بابر سے لے کر اورنگ زیب تک کے زور آور مغل حکمرانوں نے بھرا تھا لوٹ لیا گیا۔ محل میں کوئی قیمتی شے نہ بچی۔ کوہ نور نام کا مشہور زمانہ ہیرا مغل شہنشاہ نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا تھا لیکن ایک طوائف نے اس کی مخبری کردی اور نادر شاہ نے جاتے وقت اپنی پگڑی بدل کر اسے بھی ہتھیالیا۔ اس کے بعد یہ بد نصیب ہیرا کبھی دہلی کی ملکیت نہ بن سکا، اور کئی ہاتھوں سے ہوتا ہوا اب ملکہ برطانیہ کےتاج کا حصہ ہے۔

تاریخ دانوں کے محتاط اندازےکے مطابق نادرشاہ اس زمانے میں یہاں سے جو دولت لوٹ کر لے گیا تھا اس کی مالیت 156 ارب روپے تھی ، حد یہ ہے کہ ایران واپسی پر نادر شاہ نے تین سال تک کے لیے اپنے عوام پر ٹیکس معاف کردیا تھا۔ اس واقعے کو معلوم تاریخ کی سب سے بڑی مسلح ڈکیتی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس ساری روداد سے ہمیں لگتا ہے کہ محمد شاہ ایک انتہائی ناکارہ بادشاہ تھا، لیکن ایسابھی نہیں ہے۔ عسکری میدان میں یقیناً اس کی صلاحیتیں نا ہونے کےبرابر تھیں ۔ لیکن اس نے تخت سنبھالتے ہی بادشاہ گر سید برادران سے چھٹکارہ پا کر ایک خود مختار بادشاہ کے طور پر حکومت شروع کی۔ اس کے زمانے میں مرہٹھوں کے ساتھ ایک طویل جنگ جاری رہی، دکن اور مالوہ کے حکام نے خود مختاری کا سفر شروع کیا اور نادر شاہ کے حملے نے اس کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔۔ اس کے باوجود بھی وہ سلطنت پر منظم کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور مغل سلطنت ایک حد سے زیادہ شکست و ریخت کا شکار نہیں ہوئی۔ محمد شاہ نے 28 سال 212 دن حکومت کی ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں