spot_img

تازہ ترین

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

نادر بیگ مرزا:‌ سندھی ادب کا اہم نام

سندھی زبان کے افسانہ نگاروں‌ میں ایک قابلِ ذکر نام نادر بیگ مرزا کا ہے جو شاعر بھی تھے۔ وہ شمسُ العلماء مرزا قلیچ بیگ کے بیٹے تھے جنھیں سندھی ادب کا معمار بھی کہا جاتا تھا۔ نادر بیگ نے ادب کے ساتھ بحیثیت قانون داں بھی مقام و مرتبہ بنایا۔

نادر بیگ مرزا 16 مارچ 1891ء کوسندھ کے شہر کوٹری میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا قلیچ بیگ مختار کار کی حیثیت سے کوٹری میں مقیم تھے۔ نادر بیگ کی ابتدائی تعلیم کوٹری، حیدرآباد اور کراچی کے تعلیمی اداروں میں ہوئی۔ 1906ء میں وہ اعلیٰ‌ تعلیم کے لیے لندن گئے اور 1912ء میں بیرسٹری کی سند حاصل کر کے لوٹے۔ نادر بیگ مرزا نے لاڑکانہ میں اپنی عملی زندگی زندگی شروع کی اور وکالت کرنے لگے۔ بعد میں جوڈیشل سروس میں شمولیت اختیار کی اورسندھ کے مختلف شہروں میں مجسٹریٹ تعینات ہوئے۔

نادر بیگ مرزا کو ادبی ذوق اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا۔ انھیں اوّلین سندھی افسانہ نگاروں‌ میں شمار کیا جاتا ہے۔ نادر بیگ مرزا کا قلم سماجی موضوعات پر حقیقت نگاری کے لیے پہچانا گیا۔ گو کہ ان کا تخلیقی سرمایہ بہت نہیں ہے مگر سندھی افسانے کے حوالے سے اس کا ایک حلقۂ اثر ضرور رہا ہے۔ ان کے زیادہ تر افسانے ماہنامہ ادبی جریدے ’’سندھو‘‘ میں شائع ہوتے تھے۔

نادر بیگ کے افسانوں کا ایک مختصر مجموعہ 1991ء میں انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی جامشورو سے شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوں میں طنز بھی ہے اور حقیقت کی گہرائی بھی۔ ان کی تحریروں میں زیادہ تر ہندو اور کہیں کہیں پارسی معاشرے کی کہانیاں ملتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں اچھوت، مس رستم جی، موہنی جی ڈائری، عینک کی آواز اور بھاوج نمایاں ہیں۔ نادر بیگ مرزا انگریزی میں شاعری بھی کرتے تھے۔ سندھی زبان کے اس افسانہ نگار کا انتقال 3 فروری 1940ء کو کراچی میں ہوا۔ نادر بیگ مرزا ٹنڈو ٹھوڑو میں اپنے آبائی قبرستان بلند شاہ میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

Comments

- Advertisement -