The news is by your side.

Advertisement

’نادرا کسی کی شہریت ختم نہیں کرسکتا‘

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے نادرا کی جانب سےلوگوں کی شہریت ختم کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی شہریت ختم کرنا نادرا کااختیارنہیں۔

تفصیلات کے مطابق خاتون شہری کاشناختی کارڈ بلاک ہونے کے خلاف درخواست پرسماعت کے دوران عدالتی نوٹس پرڈی جی آپریشن نادرا پیش ہوئے.

جسٹس اطہرمن اللہ نے شہریوں کا شناختی کارڈ بلاک کرنے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ نادراکبھی کسی کی شہریت ختم کردیتاہےکبھی شناختی کارڈبلاک کردیتا ہے، نادرا آخرکرکیا رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنیٹر حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی کا حکم معطل کردیا

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ باربارنادراکوسمجھاچکے ہیں ایک ایگزیکٹواتھارٹی ہیں، نادراکسی شہری کے ساتھ ذاتی انا کیسےرکھ سکتاہے؟

ڈی جی نادرا نے جواب دیا کہ درخواست گزارکی تاریخ پیدائش1993کی ہے اور والد نےرابطہ کرکے کہا خاتون میری بیٹی نہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نادراکےپاس کیااختیارہےکسی کی شناحت تبدیل کردے؟ چیف جسٹس نے نادرا کے وکیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ سوچ سمجھ کربیان دیجئےگاسنگین نتائج ہوں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نادرا کو زندگیوں سےکھیلنےکی اجازت نہیں دی جاسکتی، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، کیاآپ نےنیاآرڈیننس پڑھاہے؟ کسی کی شہریت ختم کرنا نادراکااختیارنہیں، شہریت ختم کرناصرف وفاقی حکومت کااختیارہے، شکایت کنندہ سےزیادہ نادراخوددلچسپی نہیں لےسکتا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں