The news is by your side.

Advertisement

ناگپور اور اسلامی تہذیب و ثقافت

میرا شہر ناگپور، سنتروں کا شہر ہے۔ یہ علاقہ سولہویں صدی میں سوائے جنگلات کے کچھ نہ تھا۔ گونڈ حکم رانوں کے زیرِ اقتدار تھا اور ان کی حکومت (حکومتِ دیو گڑھ) کی سرحد پر واقع تھا۔

چنانچہ حکومت کے بانی راجہ جاٹبا نے جو اکبر اعظم کا معاصر و مطیع تھا اپنی حکومت کی حفاظت کے لیے ان جنگلات میں پتھروں کا ایک عظیم الشان مضبوط قلعہ تعمیر کروایا جس میں اس کی فوج رہا کرتی تھی۔ اسی قلعہ پر شاہجہاں کے سپہ سالار خان دوراں نے 16 جنوری 1637ء کو زبردست حملہ کیا تھا اور سرنگ لگا کر اس کے تین برج اڑا دیے تھے۔ اس کا تفصیلی ذکر عبدالحمید لاہوری نے بادشاہ نامہ میں کیا ہے۔

گونڈ حکم راں مغلوں کو سالانہ خراج دیا کرتے تھے۔ یہ حملہ خراج نہ دینے کی پاداش میں تھا۔ اسی خاندان کے ایک گلِ سرسبد راجہ بخت بلند شاہ نے اٹھارہویں صدی کے آغاز میں قلعہ کے چاروں طرف مضبوط فصیل تعمیر کروا کے ناگپور شہر کی بنیاد ڈالی اور اسے اپنی حکومت کا صدر مقام بنایا۔

راجہ بخت بلند شاہ، اورنگ زیب کا ہم عصر تھا۔ وہ اس کے دربار میں کئی سال مقیم رہا۔ وہیں اسلامی تعلیم و تہذیب سے متاثر ہو کر اس نے اسلام قبول کیا۔ لہٰذا ناگپور شہر کی بنیاد کے ساتھ ہی یہاں خدا کی عبادت و بندگی کے لیے مسجد تعمیر ہوئی۔ گویا اس شہر کا بنیادی پتھر ہی اسلامی تہذیب و ثقافت پر رکھا گیا۔ اب راج دربار میں فارسی کے انشا پردازوں کو جگہ ملی۔ یہاں علما و صلحا کے قدم آئے۔

راجہ بخت بلند شاہ کی وفات (1709ء) کے بعد اس کے بیٹے راجہ چاند سلطان شاہ نے تقریباً چھبیس (26) سال حکومت کی۔ اس نے اس شہر کے خاکے میں کئی رنگ بھرے۔ جمعہ دروازہ، جمعہ تالاب، جمعہ مسجد، اور پتھر پھوڑ کی مسجد اسی کے دور کی تعمیرات ہیں۔ لیکن یہ اسلامی ریاست اس کی وفات (1735ء) کے بعد خانہ جنگی کا شکار ہو گئی۔ اس کا فائدہ ایک مرہٹہ سردار رگھوجی بھوسلہ کو ملا۔ اس نے اپنی زبردست حکمتِ عملی سے 1748ء میں اس حکومت کو اپنی تحویل میں لے لیا اور راجہ چاند سلطان شاہ کے بیٹے راجہ برہان شاہ کے اخراجات کے لیے تین لاکھ روپے سالانہ پنشن مقرر کی۔ اسے ناگپور کے قلعہ میں اپنی نگرانی و حفاظت میں رکھا۔ یہیں سے اس علاقے میں مرہٹوں کا دورِ حکومت شروع ہوتا ہے۔

ناگپور میں بھوسلہ خاندان 1853ء تک حکمراں رہا۔ اس اثنا میں راجہ رگھوجی بھوسلہ کے بعد چھ راجہ یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے۔ یہ سب غیر متعصب ، منصف مزاج اور انسانیت نواز تھے لہٰذا دکن اور شمالی ہند کے کئی مسلم خاندان ان کی پالیسی سے متاثر ہو کر ناگپور آئے اور انتظامیہ میں معزز و ممتاز عہدوں پر فائز ہوئے۔ بھوسلہ فوج میں بھی مسلم سپاہیوں کی کثیر تعداد تھی۔ ان کے راج دربار میں فارسی کو زبردست اہمیت حاصل تھی۔

ان حالات سے یہاں اسلامی تہذیب و ثقافت اور مسلم سماج کو پروان چڑھنے کا خوب موقع ملا۔ ان کے کئی محلے وجود میں آئے۔ مسجدیں، مدارس اور مکاتب تعمیر ہوئے۔ فارسی و اردو زبان و ادب کو فروغ ملا اور بلند پایہ ادبا و شعرا کے علمی و ادبی کارنامے سامنے آئے۔ لالہ پیم چند، عاصی، فیض محمد فیض، مولانا غلام رسول غمگین، سید عباس علی شہرت، سید عبدالعلی عادل اور غلام عبدالقادر خان زلفی اسی عہد کے با کمال اہلِ قلم تھے جن کے روشن کارناموں سے ناگپور کی ادبی تاریخ جگمگا رہی ہے۔

(کتاب موجوں کا اضطراب سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں