The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ ہلاکت: راؤ انوار کی گرفتاری کا معاملہ، تفتیشی ٹیم کو مشکلات درپیش

کراچی: آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نقیب اللہ محسود کی ہلاکت میں ملوث معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دیں تاہم تفتیشی ٹیم کو شدید مشکلات دریپش ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس پولیس ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا جس میں نقیب اللہ کی جعلی مقابلے میں ہلاکت اور تحقیقات کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اے ڈی خواجہ نے راؤ انوار کی پراسرار گمشدگی پر برہمی کا اظہار کیا اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، اجلاس میں دیگر اداروں سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق راؤ انوار سمیت تمام ملوث اہلکاروں کا موبائل ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے جس کے بعد اُن کی آخری لوکیشن سے مذکورہ اہلکاروں کو تلاش کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نقیب اللہ کی ہلاکت ، معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے چھاپے

پولیس چیف کی ہدایت پر بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم معطل ایس ایس پی کی آخری معلومات حاصل کرنے کے بعد ملک کے کسی بھی شہر میں کارروائی کرے گی۔

تفتیشی ٹیم سر پکڑ کر رہ گئی

دوسری جانب تفتیشی ٹیم کو راؤ انوار کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ معطل ایس ایس پی ملیر کی لوکیشن ایک ہی وقت میں دو جگہ میں نظر آرہی ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق راؤ انوار کے زیراستعمال 2 نمبروں کی لوکیشن ایک ہی وقت میں دو مقامات پر نظر آرہی ہے، جنوری کو خود سے لاپتہ ہونے والے سابق ایس ایس پی ایک ہی وقت میں دو علیحدہ علیحدہ علاقوں (راولپنڈی، جامشورو) میں نظر آئے۔

ذرائع کے مطابق نقیب اللہ کی ہلاکت میں ملوث پولیس کےمرکزی ملزم موبائل لوکیشن چھپانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں جس کے باعث اُن کی گرفتاری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نقیب قتل کیس میں‌ اہم پیش رفت: راؤانوار کے خلاف مقدمہ درج

گذشتہ روز وجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کا مقدمہ ایس ایس پی کے خلاف درج کرلیا گیا، ایف آئی آر مقتول اہل خانہ کی درخواست پر سچل تھانے میں درج کی گئی۔ نقیب اللہ کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں 365،302،309اور انسداددہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں جبکہ مقدمے میں راؤ انوار اور 8دیگر اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

راو انوار کے خلاف تحقیقات ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی نے نقیب اللہ کے اغوا کے دوعینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کرلیے۔

تحقیقاتی ٹیم نقیب اللہ کے گھر علی ٹاون بھی گئی تھی جہاں ٹیم نے مقتول نقیب اللہ کے والد اور رشتے داروں سے ملاقات کی تھی۔

خیال رہے  راؤانوارکے فرار ہونے کے راستے بند کر دیئے گئے تھے اور وزارت داخلہ نے تحریری احکامات ملنے پرسابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔

اسے بھی پڑھیں: نقیب اللہ کی ہلاکت، ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو عہدےسےفارغ

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

نوجوان کی مبینہ ہلاکت کو سوشل میڈیا پر شور اٹھا اور مظاہرے شروع ہوئے تھے، بلاول بھٹو نے وزیرداخلہ سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی ملیر سے انکوائری کی۔

اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم نے راؤ انوار کو عہدے سے برطرف کرنے اور نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں