The news is by your side.

Advertisement

توانائی سے بھرپور کھانوں کی تراکیب، ناسا کا 1 ملین ڈالر کا اعلان

واشنگٹن: خلابازوں کے لیے توانائی سے بھرپور کھانوں کی تراکیب پر ناسا نے 1 ملین ڈالر انعام کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گہرے خلا میں خلابازوں کے لیے توانائی سے بھرپور اور لذیذ کھانوں کے آئیڈیاز پیش کرنے پر ناسا 1 ملین ڈالر انعام دے گا، جیسا کہ ناسا انسانیت کو خلا کے زیادہ گہرے حصوں میں بھیجنے کے لیے ہر پل کوشاں ہے، اس لیے اب وہ خلابازوں کے لیے توانائی کے ایک اہم ذریعے یعنی خوراک کے لیے پائیدار حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔

اس مقابلے میں عام افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ کھانا توانائی سے بھرپور، لذیذ اور باکفایت ہو اور اس میں ماحول کا بطورِ خاص خیال رکھا گیا ہو، کیوں کہ خلا میں پکوان کے لیے زمین جیسی سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔

اس مقصد کے لیے ناسا نے کینیڈین خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر ڈیپ اسپیس فوڈ چیلنج نامی پروگرام شروع کیا ہے، جس میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ خوراک تیار کرنے کی ایسی تخلیقی اور پائیدار ٹیکنالوجی یا سسٹم وضع کریں جسے تیار کرنے کے لیے کم سے کم وسائل کی ضرورت پڑے، اور اس عمل میں ممکنہ طور پر کم سے کم فضلہ پیدا ہو۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ غذا ایک وقت کے بعد اپنی غذائیت کھو دیتی ہے، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ پر مبنی کسی مشن کے لیے، جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اگر خلا نورد صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے پہلے سے پیک شدہ کھانا لانا قابل عمل آپشن نہیں ہوگا۔

سائنس دان ڈیپ اسپیس فوڈ چیلنج جیسے اقدامات کے ذریعے ایسے جامع اور جدید ترین فوڈ سسٹم بھی تیار کرنا چاہتے ہیں جسے گھروں اور کمیونیٹیز میں بھی استعمال کیا جا سکے، اور سیلاب، خشک سالی وغیرہ جیسے ہنگامی حالات میں بھی ان کا استعمال کیا جا سکے۔

اس پروگرام کے تحت اب مقابلے کے لیے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ ایسی ‘فوڈ پروڈکشن ٹیکنالوجی سسٹم’ تیار کیا جائے، جسے ایک مکمل فوڈ سسٹم میں ضم کیا جا سکتا ہو، تاکہ گہرے خلا میں 3 سالہ مہم کے دوران 4 خلابازوں کے عملے کو درکار غذا فراہم ہو سکے۔ مقابلے میں شامل افراد کو ہر اس چیز پر غور کرنا ہو گا جو عملے کو خوراک پہنچانے، تیار کرنے اور اسٹور کرنے کے لیے ضروری ہو۔ اس میں خوراک کی تیاری، ترسیل، کھپت اور اس کے ساتھ ساتھ فضلے کو ٹھکانے لگانا بھی شامل ہوگا۔

واشنگٹن میں ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں ناسا کے خلائی ٹیکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم رائٹر نے ایک بیان میں کہا کہ خلائی سفر کی رکاوٹوں کے ساتھ طویل عرصے تک خلابازوں کو کھانا کھلانے کے لیے نئی اختراعی تراکیب کی ضرورت ہوگی جن سے یہ مسئلہ حل ہو۔ فوڈ ٹیکنالوجی کی حدود کو اب مزید آگے بڑھانے سے مستقبل کے خلا نوردوں کو صحت مند رکھا جا سکے گا، اور اس سے گھروں میں بھی مدد لی جا سکے گی۔

واضح رہے کہ اس چیلنج کا پہلا مرحلہ گزشتہ سال اکتوبر میں مکمل ہوا ہے، جس میں ناسا نے 18 ٹیموں کو خوراک کی جدید ٹیکنالوجی کے تصورات کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے 4 لاکھ ڈالرز کا انعام دیا، ایسی ٹیکنالوجی جس کی مدد سے محفوظ، قابل قبول، لذیذ اور غذائیت سے بھرپور فوڈ پروڈکٹس تیار کی جا سکتی ہیں، اور جو پائیداری اور معیار کو برقرار رکھتی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں خاطر خواہ وسائل کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

اب ناسا نے نئی اور موجودہ دونوں ٹیموں کو دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں انھیں ٹیسٹ کرنے کے لیے تیار کردہ خوراک کے ساتھ اپنے ڈیزائن کے پروٹو ٹائپ بنانے اور اس کا ڈیمو دکھانے کی ضرورت ہوگی۔ امریکی شرکا فیز 2 میں مقابلہ کر سکتے ہیں جہاں ان کے پاس 1 ملین ڈالر تک جیتنے کا موقع ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں