The news is by your side.

Advertisement

ناسا کا یواے ای کے مارس ہوپ مشن پراطمینان کا اظہار

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں ہونے والی گلوبل اسپیس کانگریس میں ناسا کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا ’مشن ہوپ مارس ‘آئندہ سال لانچ کے لیے تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس ایچ زرباکین نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ناسا کے ماہرین کے مطابق یو اے ای کے مشن میں تاحال کوئی رکاوٹ سامنےنہیں آئی ہے اور امید ہے کہ اماراتی یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مارس ہوپ مشن کے لیے ناسا تکنیکی مدد فراہم کررہا ہے جو کہ کسی بھی کامیاب مشن کے لیے ضروری ہے۔ ہمارا معاہد ہ تکنیکی سپورٹ کا ہے اور اس کے لیے ایک مشترکہ ایڈوائزری بورڈ قائم ہے، صرف ہمارے ہی ماہرین اس پر کام نہیں کررہے بلکہ یو اے ای کے ماہرین ہی اصال کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مریخ پر آج تک جانے والے تمام مشنز میں ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کا تناسب سب سے اچھا ہے لہذاان کی جانب سے سپورٹ فراہم کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مارس مشن سے ربط رکھنے کے لیے کمیونی کیشن سسٹم بھی تشکیل دیا جارہ ہے جو وہاں سے ڈیٹا زمین پر بھیجنے کا کام کرے گا۔

زورباکین نے کہا کہ مریخ پر مشن بھیجنا ایک بڑا چیلنج ہے ، اب تک 50 فیصد مریخی مشن ناکام ہوچکے ہیں لیکن اس خطرے کو اٹھانے کے فوائد بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانیت کو زمین کی سرحدوں سےباہر لے جانے کے وعدے کو مکمل کرنے کے لیے مریخ سب سے بہتر جگہ ہے ، ہم جانتے ہیں کہ وہاں پانی ہے اور اس کے ساتھ ہی دیگر ضروری اشیا جوکہ زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ زمین اور مریخ کے درمیان کئی مماثلتیں ہیں جو سائنسدانوں کی تحقیق کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں۔

آج سے تین ارب سال قبل مریخ کافی حد تک زمین سے ملتا جلتا سیارہ تھا۔ اس کا اپنا ایک سمندر بھی تھا حالانکہ وہ محض 150 میٹر ہی گہرا تھا، اور ہمیں یقین ہے کہ ماضی میں اس کا اپنا مقناطیسی میدان بھی تھا جس کے سبب وہاں آب و ہوا تھی ، یعنی جب زمین پر زندگی کا آغاز ہوا، مریخ ہم سے بہت حد تک ملتا جلتا سیارہ تھا۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے بغیر پائلٹ کے ایک خلائی مشن زمین کے پڑوسی سیارے مریخ کی جانب بھیجنے کا اعلان سنہ 2014 میں کیا تھا جس سے یہ دنیا کے ان نو ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا، جو سرخ سیارے کو تسخیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں