The news is by your side.

مجھے صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے، نصیر الدین شاہ

بالی ووڈ اداکار نصیر الدین شاہ کے پاکستان کے حق میں دیئے جانے والے بیانات کے بعد اُن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہونے والی شدید تنقید کی گئی۔

بالی ووڈ اداکار کا کہنا تھا “میرا نام نصیر الدین شاہ ہے اور میرا خیال ہے کہ مجھے صرف اسی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے، مجھے یہ کہتے ہوئے شدید تکلیف ہورہی ہے کہ مجھے آج سے پہلے تک اپنی شناخت معلوم نہیں تھی”۔

نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا “میرے خاندان کی 4 نسلیں ہندوستان میں رہائش پذیر ہیں، مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے اور میں کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے۔”

اداکار نے سوال کیا کہ اگر پاکستان کی اچھی چیزوں کی تعریف کی جائے تو اس میں “ہندوستان مخالف” کیا بات ہے. “اگر میں کہوں کہ عمران خان عظیم ہیں تو کیا اس سے سنیل گواسکر کم درجے کے کرکٹر ہوجائیں گے؟”

سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی ہندوستان میں تقریب رونمائی کے موقع پر انتہاپسند ہندو جماعت شیو سینا کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا “نفرت پھیلانے والے آج ہندوستان میں کھل کر کھیل رہے ہیں”۔

واضح رہے کہ نصیر الدین شاہ نے بھی دیگر کالم نگاروں اور دانشوروں کے ہمراہ ممبئی میں خورشید قصوری کی کتابِ رونمائی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

اس موقع پر نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا” میں کئی مرتبہ پاکستان گیا لیکن کسی پرفارمنس میں اس طرح سے رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، نہ پریشان کیا گیا اور نہ ہی کبھی کوئی دھمکی دی گئی، حتیٰ کہ مجھے کبھی بھی اپنے ساتھ سیکیورٹی نہیں لے جانی پڑی۔

نصیرالدین شاہ کے ان بیانات کے بعد انھیں ٹوئٹر پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں