The news is by your side.

Advertisement

سندھ حکومت اسکول کھولنے سے متعلق حتمی فیصلہ نہ کر سکی

کراچی: شہر اور ملک میں بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کیسز کے پیش نظر سندھ حکومت تاحال گومگوں کی کیفیت کا شکار ہے، اسکول کھولنے سے متعلق حتمی فیصلہ نہ کیا جا سکا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کھولنے سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ کرنا باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعید غنی نے کل اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ کی تھی، جس میں طے ہوا ہے کہ اسکولوں کو کھولا جائے، بچوں کے امتحانات کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے، کل کی میٹنگ میں اسکول چھٹیوں کو نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بھی آج پریس کانفرنس میں کہا کہ 16 مارچ نہیں آئی، چھٹیوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، سندھ حکومت وہ فیصلہ کرے گی جوعوام کے بہتر مفاد میں ہوگا، کل بھی پریس کانفرنس کا مقصد وفاقی حکومت کو نیند سے جگانا تھا اور آج کی پریس کانفرنس کا بھی۔

ناصر حسین نے کہا کہ چھٹیاں صرف بچوں کے لیے تھیں انتظامیہ کے لیے نہیں، اساتذہ کی چھٹیاں نہیں تھیں امتحانات کا کام چل رہا ہے، ہم نے ایڈوائزری جاری کی ہے کہ جن بچوں کی ٹریول ہسٹری ہے وہ اسکول نہ جائیں، امتحان ہوتے بھی ہیں تو ایسے بچوں سے بعد میں امتحان لیا جائے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس وقت کرونا وائرس اہم ایشو ہے، سی ایم ہاؤس میں روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز ہو رہی ہیں، مختلف ادارے روزانہ رپورٹس دیتے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ بہت زیادہ سنجیدہ ہیں، کل جو 28 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے وہ سب نیگٹو ہیں، جتنے بھی پازیٹو کیس آئے ہیں وہ سب باہر ممالک سے آئے تھے، مقامی لوگوں کو باہر سے آنے والوں سے اب تک کوئی نقصان نہیں پہنچا، جو لوگ تفتان سے آ رہے ہیں ان کے لیے سکھر میں انتظامات کیے ہیں، علامات پائی گئیں تو انھیں سکھر ہی میں رکھا جائے گا اور مکمل ٹریٹمنٹ کے بعد جانے کی اجازت دی جائے گی۔

انھوں مزید بتایا کہ ہم نے 198 ٹیسٹ کرائے ہیں، تمام اخراجات سندھ حکومت برداشت کر رہی ہے، جو کٹس وفاقی حکومت کی طرف سے ملی تھیں وہ بھی ناکافی تھیں، وزیر اعلیٰ نے اپنے خصوصی فنڈز سے کٹس باہر سے منگوائیں، وفاقی حکومت کی سطح پر صرف ڈاکٹر ظفر ہیں جو سب معاملات میں ایکٹو نظر آتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں