The news is by your side.

Advertisement

نتاشا کمپوش: اسکول جانے والی طالبہ جو آٹھ سال بعد گھر لوٹی

اسے پرکلوپل نامی شخص نے اغوا کیا تھا اور اس کے فرار کے بعد خودکُشی کرلی تھی

اگر آسٹریا کے شہر ویانا کے ایک حقیقی واقعے کو کچھ دیر کے لیے ہم کہانی فرض کرلیں‌، تو اسے دو ابواب میں بانٹا جاسکتا ہے۔

پہلا باب ایک بدترین صبح کی اُس ساعت کے بطن سے جنم لیتا ہے جس میں ایک دس سالہ طالبہ اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلتی ہے، لیکن معمول کے مطابق چھٹّی کے بعد وہ اپنے گھر نہیں پہنچتی۔ تب اس کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسکول ہی نہیں‌ آئی تھی۔ یہ 2 مارچ، 1998ء کی بات ہے۔

پھر وہ کہاں‌ گئی اور اگر وہ اپنی مرضی سے کہیں‌ گئی تھی تو گھر کیوں‌ نہیں‌ لوٹی؟ راستے میں کوئی حادثہ پیش آیا یا اسے اغوا کرلیا گیا؟

والدین کے سامنے سوال ہی سوال تھے۔ بیٹی کی جدائی کا غم انھیں‌ نڈھال کیے دے رہا تھا۔ ماں کا جگر چھلنی تھا۔ بچّی کا باپ پولیس اسٹیشن میں گم شدگی کی رپورٹ درج کرواتے ہوئے رو پڑا تھا۔

ہر دن بچّی کی تلاش ناکام ثابت ہوئی اور پاس پڑوس سے پوچھ گچھ کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔

آٹھ سال بیت گئے، لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ البتہ 12 سالہ ایک بچّے کا کہنا تھا کہ اس نے دو آدمیوں کو دیکھا تھا جنھوں نے سفید رنگ کی ایک وین میں اُس لڑکی کو گھسیٹ کر ڈالا اور آگے بڑھ گئے۔ وہ بس یہی دیکھ سکا تھا۔ پولیس نے اس کی نشان دہی پر اس مقام کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہاں آس پاس سبھی سے معلوم کرلیا، لیکن کوئی کچھ نہیں‌ بتا سکا۔

اس کہانی کے دوسرے اور بہار آفریدہ حصّے کی طرف بڑھیں‌ تو یہ 23 اگست 2006ء کی بات ہے جب 18 سال کی نوجوان لڑکی اپنی ماں کی بانہوں میں‌ تھی۔ یقین کرنا مشکل تھا۔ ماں نے ایک نظر میں اپنی بیٹی کو پہچان لیا۔ باپ نے اسے گلے لگایا اور آنسو بہتے چلے گئے۔ خوشی کے آنسو۔ ان کی بیٹی زندہ سلامت ان کے سامنے تھی۔ وہ گھر لوٹ آئی تھی۔

یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جس میں ویانا کی رہائشی نتاشا کمپوش کو اس کے گھر سے محض‌ آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ایک گھر کے تہ خانے میں آٹھ سال تک رکھا گیا اور ایک روز اسے وہاں سے فرار ہونے کا موقع مل گیا۔

پولیس اور انتظامیہ نے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد کہا کہ یہی وہ نتاشا کمپوش ہے جو آٹھ سال قبل لاپتا ہوگئی تھی۔

والدین اور نتاشا کے انٹرویو آسٹرین ٹیلی ویژن اور مقامی ریڈیو پر نشر ہوئے جب کہ اخبارات نے بھی اس خبر کو شایع کیا۔ اس طرح گویا سبھی ان کی خوشی میں‌ شریک ہوئے۔

نتاشا کمپوش کی ماں‌ کا کہنا تھاکہ ’میں نے اپنی بچّی کو دیکھتے ہی بانہوں میں لے لیا۔ مجھے یقین تھا کہ میری بیٹی زندہ ہے۔‘

نتاشا کی ماں نے بتایا کہ بچّی نے انھیں‌ ’ماما موسی‘ کہہ کر بلایا، جیسا کہ وہ پیار میں اکثر کہا کرتی تھی۔‘

نتاشا کمپوش کے والد لاڈونگ کاچ کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ میں اپنی زندگی میں اپنی بیٹی کو دوبارہ دیکھ سکوں گا، لیکن میں نے اس کی کھلونا کار ہمیشہ سے اپنے پاس رکھی تھی اور اپنے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آنے دیا کہ وہ مر گئی ہے۔

اب اس شخص کا تذکرہ جس نے نتاشا کو قید میں‌ رکھا تھا، لیکن یہ جان لیجیے کہ 44 سالہ ولفگینگ پرکلوپل نے اُسی روز خود کشی کر لی تھی جس دن نتاشا اس کے گھر سے فرار ہوئی تھی۔ وہ ٹرین کے سامنے آگیا تھا اور یوں پولیس اغوا کار سے محرکات اور اس کارروائی کا اصل مقصد نہیں‌ جان سکی۔

نتاشا نے پولیس کو اس کے گھر تک پہنچایا اور وہ جگہ اور اپنے زیرِ استعمال اشیا دکھائیں‌ جو دراصل گیراج کے نیچے ایک تہ خانے میں رکھی ہوئی تھیں۔ یہیں‌ نتاشا کے شب و روز گزر رہے تھے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جب نتاشا اغوا ہوئی تھی تو پولیس نے پرکلوپل سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ اس وقت وہ اپنی کار میں کہیں‌ جارہا تھا اور ناکہ بندی کے دوران سات سو سے زائد سفید رنگ کی وین اور مختلف کاروں کو روکنے کے دوران پرکلوپل کو بھی روکا گیا تھا، لیکن پولیس کو اس پر ذرا بھی شک نہیں‌ ہوا تھا۔

ایک روز نتاشا نے کار صاف کرتے ہوئے دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند نہیں‌ ہے اور ایسا کبھی نہیں‌ ہوتا۔ وہ باہر نکلی تو لمحوں میں‌ اندازہ لگا لیا کہ اغوا کار دروازہ بند کرنا بھول گیا ہے اور یہ فرار ہونے کا بہترین موقع ہے۔ اس نے فوراً ایک جانب دوڑ لگا دی اور یوں اپنے والدین تک پہنچی۔

نتاشا کے مطابق وہ شخص اسے کھانے پینے کو دیتا تھا، اس کی دوسری ضرویات پوری کرتا تھا۔ یہی نہیں‌ بلکہ اس نے نتاشا کو لکھنا، پڑھنا اور حساب بھی سکھایا تھا۔

وہ نتاشا کو اپنے ساتھ باہر بھی لے جاتا تھا، جہاں ہر وقت اس کا ہاتھ تھامے رکھتا۔ اس دوران نتاشا نے جب کسی کو اپنی جانب متوجہ پایا تو اسے آنکھوں کے اشارے سے اپنی مدد کے لیے کہا، لیکن اس کی یہ کوشش کام یاب نہیں‌ ہوئی۔

وہ چھوٹی تھی اور اغوا کار کا ڈر اس کے دل میں تھا۔ باہر پرکلوپل کی موجودگی میں ہاتھوں کے اشارے یا باڈی لینگویج سے کسی راہ گیر کو کوئی بات سمجھانا آسان نہیں‌ تھا۔

پولیس کے مطابق اغوا کار نتاشا سے گھر کے تمام کام اور اپنی کار بھی صاف کرواتا تھا۔

نتاشا کمپوش کے اغوا پر ناول بھی لکھا گیا، فلم بھی بنی اور خود نتاشا نے اپنی کہانی(آپ بیتی) لکھی اور اسے شایع کروایا ہے۔ نتاشا کی زندگی سے متعلق کوئی خبر ہو، اس واقعے پر مبنی کوئی ناول یا فلم ہو، ضرور آسٹریا کے باسیوں‌ کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں