The news is by your side.

قومی اسمبلی کا اجلاس : صحابہ کرام ؓکی توہین پر سزاؤں میں اضافہ

اسلام آباد : قومی اسمبلی نے صحابہ کرامؓ کی توہین پر سزاؤں میں اضافے کے بل کی منظوری دے دی۔ سزا کو تین سے بڑھا کر 5سال کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہوا، آج منگل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں صحابہ کرامؓ کی توہین پر سزاؤں کے حوالے سے مولانا عبدالاکبر چترالی نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2020ء پیش کرنے کی اجازت چاہی۔

مذکورہ بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓکی توہین پر اس وقت تین سال قید کی سزا نافذالعمل ہے جبکہ قانون میں کسی بھی عام شہری کی توہین کی سزا پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بل سے صحابہ کرام ؓکی توہین کی سزا میں اضافہ ہوسکے گا۔ وفاقی وزیر قانون نے بل کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد انہوں نے ایوان میں بل پیش کیا، بعد ازاں ایوان نے بل کی شق وار منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ توہینِ مذہب کے قوانین پہلی مرتبہ برصغیر میں برطانوی راج کے زمانے میں 1860 میں بنائے گئے تھے اور پھر 1927 میں ان میں اضافہ کیا گیا تھا۔

اس کے بعد 1980اور1986 کے درمیان جنرل ضیاءالحق کی فوجی حکومت کے دور میں متعدد شقیں ڈالی گئیں۔ جنرل ضیاءالحق ان قوانین کو اسلام سے مزید مطابقت دینا چاہتے تھے۔

برطانوی راج نے جو قوانین بنائے ان میں کسی مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا، کسی کے قبرستان میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، کسی کے مذہبی عقیدے کی توہین کرنا یا سوچ سمجھ کر کسی کی عبادت گاہ یا عبادت کی کسی چیز کی توہین کرنا جرم قرار پائے تھے۔ ان قوانین میں زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید اور جرمانہ تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں