The news is by your side.

Advertisement

امریکا اور نیٹو نے افغانستان سے باقاعدہ انخلا کا آغاز کر دیا

کابل: امریکی صدر جو بائیڈن کے فیصلے کے بعد امریکا اور نیٹو نے افغانستان سے باقاعدہ انخلا کا آغاز کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق نیٹو اتحاد کے ایک عہدے دار نے جمعرات کو بتایا کہ نیٹو نے صدر جو بائیڈن کے امریکی افواج کو وطن واپس لانے کے فیصلے کے بعد افغانستان سے اپنے مشن کی واپسی کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اور نیٹو فوجیوں کا انخلا 11 ستمبر تک جاری رہے گا، دوسری طرف افغان سیکیورٹی فورسز واپس لوٹنے والے امریکی اور نیٹو افواج کے دستوں پر ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہو گئی ہیں۔

یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا گیارہ ستمبر تک مکمل ہو جائے گا، یہ امریکا میں نائن الیون حملوں کے 20 برس مکمل ہونے کی تاریخ ہے۔

ادھر افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے غزنی میں ہفتے کو طالبان نے ایک اہم افغان آرمی بیس پر حملہ کر کے اس پر قبضہ جما لیا ہے، طالبان نے اس حملے میں درجنوں فوجیوں کو پکڑ لیا ہے جب کہ متعدد کو ہلاک کر دیا۔

“طالبان انسداد دہشتگردی سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں”

یہ تازہ حملہ اسی دن کیا گیا ہے جب امریکا اور نیٹو پارٹنرز نے باضابطہ طور پر اپنے فوجیوں کو افغانستان سے بیس سال بعد نکالنے کا آغاز کر دیا ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے صبح سویرے حملہ کیا، اور کئی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں میں 17 افغان فوجی مارے گئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز دوحہ میں چار ملکی مذاکرات کے بعد جاری اعلامیے میں طالبان کو پابند بنایا گیا تھا کہ افواج کے انخلا کے دوران امن عمل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، افغانستان میں لڑائی بند ہو، بین الاقوامی افواج کی حفاظت یقینی بنائی جائے، اور طالبان انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدے پورے کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں