ہم بھیڑبکریاں نہیں جو آنکھیں بند کر کے فیصلہ تسلیم کرلیں، نوازشریف -
The news is by your side.

Advertisement

ہم بھیڑبکریاں نہیں جو آنکھیں بند کر کے فیصلہ تسلیم کرلیں، نوازشریف

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ہم بھیڑبکریاں نہیں جو آنکھیں بند کر کے فیصلہ تسلیم کرلیں، میں ،پارٹی اور قوم اس فیصلے کو قبول نہیں کرینگے، ، ہم اس فیصلے کے خلاف تحریک چلائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز اسلام آباد ائیرپورٹ سےشاہانہ پروٹوکول میں احتساب عدالت پہنچے، سابق وزیراعظم نوازشریف نے پیشی کے موقع پر عدالتی احاطے میں کھڑے ہوکر عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے میں دہرا معیار اپنایا گیا ، مجھے خیالی تنخواہ پرنکالا گیا، خیالی تنخواہ کومیرا اثاثہ بتایا گیا۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نےلاکھوں پاؤنڈ ،بنی گالہ،نیازی سروس کو تسلیم کیا، ملک آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے بنایا گیا ، وزیراعظم کوشک کا فائدہ نہیں دیا جاتا اورنکال دیا جاتا ہے ، اس طرح کی سکہ شاہی نہیں چلے گی ، نوازشریف کا 50 سال پرانا احتساب لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم بھیڑبکریاں نہیں جو آنکھیں بند کر کے فیصلہ تسلیم کرلیں ،میں ، پارٹی اورقوم یہ فیصلہ قبول نہیں کرتے ، ہم اس فیصلے کے خلاف تحریک چلائیں گے۔


مزید پڑھیں : سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں پیش


سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم اس مذاق کومزیدبرداشت نہیں کرےگی ، لاڈلے کوچھوڑ دیا گیا اورجس کی خطا نہیں اس کونکال دیا ، ہم نے پہلے عدلیہ بحالی کی تحریک چلائی تھی اب انصاف کی بحالی کی تحریک چلائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آمروں کےگلےمیں ہار کون ڈالتارہا، فیصلوں میں دہرا معیار نظر آرہاہے،دہرا معیار اور انصاف کا خون نہیں چلے گا، سال سے ملک کے ساتھ مذاق ہوتا رہا ہے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ  ایک فیصلہ میرا،دوسرا عمران خان کا آیا، میں نےجوتنخواہ لی ہی نہیں وہ اثاثہ بنادیا، ایک سیکنڈ میں وزیراعظم کو فارغ کر دیا جاتا ہے، انکےخلاف ویڈیوزموجود ہیں پھر بھی نا اہل نہیں کیا گیا، نواز شریف کو50سال پیچھے لے گئے، ان کو5سال سے پیچھے نہیں لےکر گئے۔

انھوں نے کہا کہ دہرامیعار نہیں چلے گا،فیصلہ قبول نہیں کریں گے، ہم اس فیصلے کو عوام کے پاس لےکر جائیں گے، انصاف کا ترازو ہونا چاہئے، تحریک انصاف کا نہیں، مشرف کا حلف کس نے لیا تھا، کونسا پریشر تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں