The news is by your side.

Advertisement

ضمانت پر رہائی کے25دن بعد بھی نواز شریف کے علاج کا فیصلہ نہ ہوسکا

لاہور : نوازشریف کی ضمانت پر رہائی کے پچیس دن بعد بھی علاج شروع نہ ہوسکا۔ نوازشریف کی انجیو پلاسٹی ہو گی یا پھر اوپن ہارٹ سرجری ہو گی ،فیصلہ اب تک نہ ہوسکا، ڈاکٹرز اور لیگی رہنما بتانے سےگریزاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کروانے کیلئے چھ ہفتوں کی ضمانت پر رہا ہوئے25دن گزر گئے، لیکن اب تک ان کا باقاعدہ علاج شروع نہ ہوسکا، جیل میں علیل اور جیل سے باہر فٹ رہنے کے بعد ان کے علاج کیلئے کسی کی جانب سے کوئی ٹوئٹ تک نہیں کیا گیا۔

نوازشریف کی انجیو پلاسٹی یا پھر اوپن ہارٹ سرجری ہوگی ؟ اس بات کا فیصلہ علاج کیلئے ضمانت پر رہائی کے پچیس دن بعد بھی نہ ہوسکا، سابق وزیراعظم کو ابھی تک نہ تو کسی اسپتال میں داخل کرایا گیا نہ ہی علاج کا فیصلہ ہو سکا۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے مطابق نوازشریف کو مستقل پیس میکر لگانا پڑے گا، اس سے قبل بھی ڈاکٹر عدنان نے باربار عارضہ قلب کو نوازشریف کی زندگی کیلئے خطرہ قراردیا تھا۔

اس کے علاوہ نون لیگی رہنما بھی ان کی بیماری پر سیاست کرتے رہے اور اور اپنے ٹوئٹر پیغام میں عوام سے دعاؤں کی اپیل کرتے رہے۔ سوال یکہ پیدا ہوتا ہے کہ نوازشریف کی ضمانت پر رہائی کو بھی ایک ماہ ہونے کو ہے مگر علاج میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے؟

مزید پڑھیں : نوازشریف کی آج طبی معائنےکےلیے شریف میڈیکل سٹی آمد متوقع

ڈاکٹرز اور ن لیگ کے رہنما بتانے سے اب تک گریزاں ہیں، ناقدین صرف ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا بیماری کا واویلا صرف نوازشریف کو جیل سے باہرلانے کا بہانہ تھا؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں