The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ملزاور فلیگ شپ ریفرنس دوسری عدالت منتقل کیے جائیں، نواز شریف کی درخواست

اسلام آباد : نواز شریف نے العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریفرنسز جج محمد بشیر کی عدالت سے منتقل کئے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔

نواز شریف کی جانب سے خواجہ حارث نے درخواست دائر کی، درخواست دائر میں کہا گیا ہے کہ ایون فیلڈریفرنس کا فیصلہ آ چکا، اس لیے قانون کا تقاضا ہے کہ باقی ریفرنسز کسی اور عدالت کو منتقل کیے جائیں۔

درخواست میں نیب اورجج احتساب عدالت محمدبشیرکو فریق بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کی جانب سے ریفرنس منتقل کرنے کی درخواست مسترد کی تھی۔


مزید پڑھیں :  نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی ایوان فیلڈ فیصلے کیخلاف اپیلیں دائر


اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر نے ایوان فیلڈ ریفرنس  فیصلے کے خلاف   اپیلیں دائر کیں، جس میں کہا گیا تھا کہ اپیلوں پرفیصلےتک نوازشریف،مریم نواز،صفدرکوضمانت پررہاکیاجائے۔

خیال رہے کہ  ایوان فیلڈ میں سزا یافتہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیل میں قید ہیں ۔

یاد رہے کہ 13 جولائی نوازشریف اور مریم نواز کو لندن سے لاہورپہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا ، جس کے بعد دونوں کو خصوصی طیارے پر نیو اسلام آباد ایئر پورٹ لایا گیا، جہاں سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا جبکہ کیپٹن صفدر پہلے سے ہی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو مجموعی طورپر گیارہ سال اور مریم نواز کو آٹھ سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی مجرموں پر احتساب عدالت کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

فیصلے میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں