The news is by your side.

نوازشریف پرجوتا اچھالنے والے ملزمان ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

لاہور:جوڈیشل مجسٹریٹ نے سابق نا اہل وزیراعظم نوازشریف پرجوتا پھینکنے والے ملزم اوراس کے دو سہولت کاروں کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوا دیا‘ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جامعہ نعیمیہ میں نواز شریف پر جوتے سے حملہ کرنے کے واقعے میں ملوث ملزمان عبدالغفور، منور حسین اور محمد ساجد کو ہتھکڑیاں لگا کر انتہائی سخت سکیورٹی میں جوڈیشل مجسٹریٹ زرتاشہ بگٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے جامعہ نعیمیہ آمد پرنواز شریف پر جوتا پھینکا تھا ‘ جس پر ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج کیا گیا ہےملزمان سے مزید تفتیش نہیں کرنی ‘ لہذاانہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جائے۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے ملزمان کو جیل بھجوانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے تینوں ملزمان عبدالغفور، منور حسین اور محمد ساجد کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ ملزم کی عدالت میں پیشی کے وقت کینٹ کچہری لاہور میں نقص امن کے اندیشے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نوازشریف لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ہونے والی تقریب میں خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص کی جانب سے جوتا پھینکا جو نوازشریف کو جا کرلگا۔ جوتا پھینکنے والے شخص کو وہاں موجود افراد نے پکڑلیا اور تقریب سے باہر لے جانے کے بعد سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔

واقعے کی وجہ سے تقریب میں شدید بدمزگی پیدا ہوگئی اور نوازشریف بھی مختصر خطاب کرکے واپس روانہ ہوگئے جبکہ تقریب کو بھی وقت سے پہلے ختم کردیا گیا۔ اس وقعے سے ایک دن قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف سیالکوٹ میں (ن) لیگ کے ورکرز کنونشن سے خطاب کے لیے اسٹیج پر پہنچے ہی تھے ایک شخص نے سیاہی ان کی جانب پھینکی جس کے بعد ان کا چہرہ اور لباس سیاہ ہوگیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کئی رہنماء جوتا کلب میں شامل رہے ہیں جن میں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید شامل ہیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو سندھ اسمبلی کے اطراف میں نشانہ بنایا گیا اور سابق پاکستانی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر انٹرویو کے دوران جوتا اچھالا گیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، بھارتی سابق وزیر داخلہ چدم برم، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجر یوال، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ پر بھی جوتوں کے وار ہو چکے ہیں جبکہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ٹونی بلیئر بھی جوتا کلب کے ممبر رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں