The news is by your side.

Advertisement

بازار صبح سحری سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے، رمضان ایس او پیز جاری

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے بڑھتے کورونا کیسز کے پیش نظر رمضان میں کورونا ایس او پیز جاری کر دئیے ، جس میں کہا ہے کہ بازار صبح سحری سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسدعمرکی زیرصدرات این سی اوسی کاخصوصی اجلاس ہوا ، جس میں بڑھتے کورونا کیسز اور رمضان میں مذہبی وثقافتی سرگرمیوں کےباعث اہم فیصلے کئے گئے اور رمضان المبارک کیلئے خصوصی ایس او پیز جاری کردی ہے۔

این سی اوسی نے ملک بھر میں ایس اوپیز پر یکم رمضان سےعملدرآمد شروع کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کورونا کے خطرے کو مدنظر رکھ کر لگایا جائے گا۔

اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افطارسےرات11بجکر59منٹ تک باہرکھاناکھانےکی اجازت ہوگی، ٹیک اوےکی اجازت ہوگی تاہم انتظامیہ عملدرآمدکویقینی بنائے۔

این سی اوسی اعلامیے میں کہا ہے کہ سینماگھراورمزارات مکمل طورپربندرہیں گے، کھیلوں،میلوں سمیت دیگرتقریبات پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتےمیں2دن بندرہےگی ، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پابندی کا اطلاق 26،25اپریل کی شب تک ہوگا تاہم بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کاجائزہ لینے کیلئے اجلاس20 اپریل کو ہوگا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریلوے کو 70فیصد مسافروں کے ساتھ چلایا جائے گا اور مختلف جگہوں پرٹیسٹنگ پوائنٹ بنائےجائیں گے۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ گلگت، کے پی ، آزاد کشمیرمیں سیاحت کیلئے سخت ایس اوپیزہوں گے، نجی،سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کیلئے  ورک فرام ہوم پالیسی ہوگی۔

اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اندرون شہرٹرانسپورٹ50 فیصد مسافروں کے ساتھ چلائی جائےگی، رمضان میں رش سے بچنے کیلئے اضافی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سخت ایس اوپیز کے ساتھ وسیع لاک ڈاؤن لگایا جائے، دوران لاک ڈاؤن ایمرجنسی کے علاوہ غیر ضروری نقل و حرکت  پر پابندی ہوگی۔

کورونا ایس او پیز کے مطابق بازار صبح سحری سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے، سماجی،سیاسی،کھیلوں سمیت ہرقسم کی تقریبات پرپابندی ہوگی، ان ڈوراورآؤٹ ڈور تقریبات  پرمکمل پابندی ہوگی۔

این سی او سی  کا کہنا ہے کہ کمیونٹی اور میڈیاکےذریعےماسک پہننےکی مہم چلائی جائےگا، ایس اوپیزسےمتعلق این سی اوسی کاجائزہ اجلاس 10 رمضان کو ہوگا تاہم صوبے چاہیں تو ایس اوپیزکے حوالے سے مزید سخت اقدامات کرسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں