The news is by your side.

حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان مذاکرات پھر ناکام

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا۔ مذاکرات میں چینی کی برآمد پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔

وفاقی وزیر غذائی تحفظ طارق چیمہ نے اپنے ایک بیان میں اس حوالے سے بتایا کہ چینی درآمد کی ابھی تک اجازت نہیں دی، شوگر ملز کو ایک فارمولہ دیا ہے، شوگر انڈسٹری اس کے ساتھ آئے تو دیکھیں گے۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پہلے کہا چینی کے اسٹاک کم ہیں اور برآمد کی اجازت نہ دیں، آج صوبائی حکومت نے اپنے پہلے مؤقف پر 180 ڈگری کا یوٹرن لے لیا، پنجاب حکومت کا اب مؤقف ہے کہ چینی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔

ادھر وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے اپنے بیان میں کہا کہ ابھی تک مسئلہ چینی کے اسٹاک کی پوزیشن کا رہا ہے، چینی کے اسٹاک کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے، تھرڈ پارٹی کی طرف چینی کے اسٹاک کی تعداد کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

’شوگر ملز نے ابھی تک ہڑتال نہیں کی‘

چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ شوگر ملز نے ابھی تک ہڑتال نہیں کی، خبیر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کی ملز چینی برآمد کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہیں۔

ذکا اشرف نے بتایا کہ شوگر ملز کو بینکوں کے اربوں روپے ادا کرنے میں مسائل کا سامنا ہے، چینی کی مارکیٹ میں قیمت 85 روپے جبکہ فی کلو لاگت 115 روپے آتی ہے، شوگر صعنت کو یومیہ 10 کروڑ نقصان کا سامنا ہوگا، ایک سیزن میں 4 سے 5 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں