The news is by your side.

Advertisement

سائنس کا کارنامہ، بارشوں کی درست پیش گوئی کا نیا طریقہ متعارف

مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپیوٹر سائنس کا ایک ایسا ذیلی شعبہ ہے، جس میں ذہانت (یا فہم) سیکھنے اور کسی صلاحیت کو اپنانے سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔

بنیادی طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا ’اے آئی‘ انسانی دماغ کو بائے پاس کرکے اس سے کئی گنا زیادہ سوچنے، سمجھنے اور پھر عمل کر دکھانے والی مشین کی تیاری کی سائنس ہے۔

اس کی بہترین مثال ‘’ڈیپ مائنڈ‘‘ کے وضع کردہ الگورتھمز اور کمپیوٹر پروگرامز ہیں، جو اب تک ذہنی آزمائش کے کھیل میں انسانوں کو شکست دینے اور پچاس سال پرانے سائنسی مسائل حل کرنے کے علاوہ گردوں میں خرابی کی بھی انتہائی درست نشاندہی کے قابل ہوچکے ہیں۔

اب گوگل کی ذیلی کمپنی ’’ڈیپ مائنڈ‘‘ نے اپنے الگورتھم کو موسمیاتی پیش گوئی کی تربیت دینے کا آغاز کردیا ہے اور اب تک یہ ایک سے دو گھنٹے بعد بارشوں کی پیش گوئی 85 فیصد درستگی سے کرنے کے قابل ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑی جس میں رہائش بھی رکھی جاسکتی ہے

اپنی ان ہی کوششوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ڈیپ مائنڈ نے پچاس سے زائد برطانوی ماہرینِ موسمیات کے تعاون سے موسمیاتی پیش گوئیوں کےلیے ایک نیا خودکار ٹول تیار کیا ہے جسے ’’ڈیپ جنریٹیو ماڈل آف رین‘‘ (ڈی جی ایم آر) کا نام دیا گیا ہے۔

اسے بارشوں سے متعلق ڈیٹا اور موسمیاتی ماڈلز پر تربیت دے کر بارش کی قلیل وقتی پیش گوئی کے قابل بنایا گیا ہے جو 85 فیصد تک درست ہوتی ہے، البتہ، ڈی جی ایم آر ایک بڑے منصوبے کی ابتداء ہے جسے آنے والے مہینوں اور برسوں میں آگے بڑھاتے ہوئے، اسی الگورتھم کو 24 گھنٹے، ایک ہفتہ، پندرہ روزہ، ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر درست موسمیاتی پیش گوئی کے قابل بنایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں