The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے بارے میں نیا خوف ناک انکشاف

وسکنسن: سائنس دانوں نے اب نئے کرونا وائرس کے بارے میں نیا خوف ناک انکشاف کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کو وِڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس اب وہ نہیں رہا جو چین میں نمودار ہوا تھا بلکہ اس نے خود کو اس طرح سے بدل لیا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے اور زیادہ متعدی ہوگیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم نے اس کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھا دی، امریکی ریاست وسکنسن کی یونی ورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس نئی قسم کا نام ’614 جی‘ ہے ناک میں جس کا وائرل لوڈ اصل وائرس سے کہیں زیادہ نکلا، تاہم محققین کہتے ہیں کہ اس سے بیماری کی شدت میں اضافہ نہیں ہوا لیکن دوسروں تک منتقلی کی شرح بڑھ گئی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس نے اپنے اسپائیک پروٹینز کو بدلا ہے، یہ وہ حصہ ہے جو جسم میں انسانی خلیات کو متاثر کرنے میں مدد دیتا ہے، چناں چہ اب یہ وائرس مزید تیزی کے ساتھ جسم میں خلیات تک پہنچ کر اپنی تعداد بڑھاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ قسم سب سے پہلے فروری 2020 میں یورپ میں سامنے آئی تھی، اور بہت تیزی سے دنیا بھر میں کرونا کی بالادست قسم بن گئی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اس سلسلے میں متعدد سائنسی تحقیقات سامنے آ چکی ہیں، امریکا کے لوس آلموس نیشنل لیبارٹری نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ وائرس کی اس نئی قسم سے متاثر جانور، وائرس کی اوریجنل قسم کے شکار جانوروں کے مقابلے میں، زیادہ تیزی سے بیماری کو صحت مند جانوروں میں منتقل کرتے ہیں۔

چوہوں پر تجربہ

وسکنسن یونی ورسٹی میں اس سلسلے میں 16 چوہوں پر تجربہ کیا گیا، ان میں سے 8 کو 614 جی جب کہ دیگر کو اصل قسم کے کرونا وائرس سے متاثر کیا گیا، ہر متاثرہ چوہے کو ایک صحت مند چوہے کے ساتھ ایک پنجرے میں الگ الگ حصے میں رکھا گیا، تاکہ وہ ایک دوسرے کو چھو نہ سکیں مگر اسی فضا میں سانس لیں۔

تجربے کے دوسرے دن 614 جی سے متاثرہ چوہوں کے ساتھ رہنے والے 8 میں سے 5 بیمار ہوگئے اور خود بھی وائرل ذرات خارج کرنے لگے، جب کہ اصل قسم سے متاثر چوہوں کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی بیمار نہیں ہوا بلکہ ایسا ہونے میں مزید 2 دن لگے، جس سے ثابت ہوا کہ وائرس کی نئی قسم میں آنے والی تبدیلیوں سے وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھ گئی ہے۔

یونان میں انسانوں کے بعد ایک مخصوص جانور بھی کرونا کا شکار ہونے لگا

تحقیق میں شامل پروفیسر رالف بیرک اور ان کی ٹیم نے اس سوال کا جواب جاننے کی بھی کوشش کی کہ وائرس کی ساخت میں تبدیلیوں سے ویکسین اور دیگر طریقہ علاج پر اثرات تو مرتب نہیں ہوں گے؟ اس کے لیے انھوں نے نئی اور پرانی اقسام کے وائرسز کے باعث بیمار ہو کر صحت یاب ہونے والے افراد کے خون میں موجود اینٹی باڈیز کو ٹیسٹ کیا، تاہم اینٹی باڈیز میں نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا، یعنی امکان ہے کہ ویکسینز یا علاج پر اس کا کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوگا۔

پروفیسر رالف کے مطابق اس وقت تیار ہونے والی سب ویکسینز وائرس کی اصل قسم پر مبنی ہیں۔

پروفیسر رالف بیرک کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا، کسی بھی انسان میں اس وائرس کے خلاف مدافعتی قوت موجود نہیں تھی اس لیے ہم اس کا مرکزی ہدف بنے، دراصل کسی بھی وائرس کو یہ جینیاتی خصوصیت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی نقول بہت تیزی سے بنا کر ایک سے دوسرے میزبان میں منتقل ہوتے ہیں، اس لیے ایک سے دوسرے ، تیسرے اور چوتھے میں چھلانگ لگا کر یہ اب تک سب سے زیادہ مشکل وائرس بن چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں