نیویارک حملے کے ملزم سیف اللہ سائپوف پردہشتگردی کی فرد جرم عائدNew York
The news is by your side.

Advertisement

نیویارک حملے کے ملزم سیف اللہ سائپوف پردہشتگردی کی فرد جرم عائد

نیویارک : نیویارک حملے کے ملزم سیف اللہ سائپوف پردہشتگردی کی فردجرم عائد کردی گئی، سائپوف نے آٹھ افراد کوگاڑی سے کچل کرہلاک کردیا تھا۔

تفیصیلات کے مطابق نیویارک حملے کے ملزم سیف اللہ سائپوف پر دہشتگردی کی فرد جرم عائد کردی گئی ، سائپوف پر داعش کو مالی مدد اور وسائل فراہم کرنے کا الزام بھی ہے، حملہ آور کا سنہ 2010 میں ہجرت کر کے امریکا آیا تھا اور رفلوریڈا میں رہتا تھا۔

نیویارک پولیس کا کہنا ہے حملہ آور سائپوف داعش سے متاثرتھا اور کئی ہفتوں سے حملے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

ایف بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سیف اللہ سائپوف سے تفتیش جاری ہے،  ملزم سیف اللہ سائپوف کئی ہفتوں سےحملےکی تیاری کررہاتھا، سائپوف نے وہی کیا جس کا پروپیگنڈا داعش سوشل میڈیا پر کررہی ہے، سائپوف مارچ2010میں امریکاآیا،قانونی طور پر رہائش پذیرتھا۔


مزید پڑھیں : نیو یارک میں سیکورٹی ہائی الرٹ، میراتھن وقت پر کرانے کا اعلان


ایف بی آئی کے مطابق گزشتہ رات سےنیویارک کی مختلف جگہوں کی تلاشی کاسلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب نیو یارک میں اہم مقامات پر پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے، آئندہ اتوار کوہونے والی میراتھن دوڑ کے موقعے پرسخت سکیورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ نیو یارک کے میئر ڈی بلاسیو نےواقعے کو دہشت گردی قراردےدیا ہے۔

میئر نیویارک کا کہنا ہے کہ داعش کےماننےوالےنےنیویارکزپربزدلانہ حملہ کیا، دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے خوفزدہ نہیں کرسکتے۔


مزید پڑھیں : نیویارک: حملہ آور نے ٹرک راہگیروں پر چڑھا دیا، 8 افراد ہلاک


یاد رہے گزشتہ روز ازبکستان سے تعلق رکھنے والے سیفولو نے نیو یارک کے مصروف ترین علاقے میں آٹھ افراد کو ٹرک کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ گیارہ افراد شدید زخمی ہوگئے تھے، حملہ آورکی گاڑی سےمبینہ طورپرداعش کاجھنڈا ملا تھا۔

یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس کے پاس موجود بندوق نقلی تھی۔

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے نیویارک حملے کے بعد گرین کارڈ لاٹری ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  گرین کارڈکی وجہ سے دہشت گرد داخل ہوتےہیں، کانگریس گرین کارڈ لاٹری فوری ختم کرے، میریٹ پرامیگریشن کامتبادل نظام لائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں