نیو یارک میں سیکورٹی ہائی الرٹ، میراتھن وقت پر کرانے کا اعلانNew
The news is by your side.

Advertisement

نیو یارک میں سیکورٹی ہائی الرٹ، میراتھن وقت پر کرانے کا اعلان

نیویارک : امریکی شہر نیو یارک میں لوگوں کو ٹرک سے کچلنے کے واقعے کے بعد شہر بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، نیو یارک کے ٹرین سٹیشنز ، بس کے اڈوں اور ائر پورٹس سمیت سیاحتی مقامات پر اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کر دئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں آٹھ افراد کو ٹرک سے کچل کرہلاک کرنے کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں ، واقعے کے بعد شہر بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

نیو یارک کی انتظامیہ کے مطابق آئندہ اتوار کو ہونے والی میگا مراتھن مقررہ وقت پر منعقد کی جائے گی، نیو یارک کو کسی دہشت گرد سے کوئی خطرہ نہیں تاہم لوگوں کو مزید محفوظ بنانے کیلئے سیاحتی مقامات سمیت ائر پورٹس اور دیگر جگہوں پر سیکورٹی بڑھائی جارہی ہے اور پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحے سے لیس کیا جارہا ہے۔

گورنر نیو یارک کا کہنا تھا کہ داعش کے ماننے والے نے نیو یارکز پر بزدلانہ حملہ کیا۔

نیویارک میئر بل دی بلاسیو کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد کی شرکت نے ثابت کیا ہے کہ نیو یارکرز کو کوئی خوفزدہ نہیں کر سکتا، واقعے میں ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کو نیو یارکرز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔


مزید پڑھیں : نیویارک: حملہ آور نے ٹرک راہگیروں پر چڑھا دیا، 8 افراد ہلاک


اس موقع پر لوگوں سے تحقیقات اداروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔

یاد رہے کہ نیو یارک میں حملے کے باوجود رات کو شہر میں منعقد ہونے والی ہیلووین پریڈ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ازبکستان سے تعلق رکھنے والے سیفولو نے نیو یارک کے مصروف ترین علاقے میں آٹھ افراد کو ٹرک کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ گیارہ افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

ملزم نے ابتدائی تفتیش میں دہشت گرد تنظیم داعش سے متاثر اور وفاداری کو جرم قبول کر لیا ہے۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ نے گرین کارڈ لاٹری ختم کرنے کا اعلان کردیا


صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کہ ملزم کو گوانتانامو بے منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ لاٹری سسٹم اور چین امیگریشن کو بھی ختم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں