The news is by your side.

نیوزی لینڈ فیس بک اور گوگل سے متعلق کیا کرنے جارہا ہے؟

ویلنگٹن: آسٹریلیا کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی فیس بک اور گوگل کو دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جلد ایک ایسا قانون متعارف کرانے جارہی ہے، جس کے تحت بڑا آن لائن ڈیجیٹل کمپنیوں جیسے گوگل اور میٹا پلیٹ فارم (فیس بک) کو نیوزی لینڈ میں میڈیا کمپنیوں کو پیسے ادا کرنا ہونگے۔

نیوزی لینڈ کے وزیر برائے نشریات ولی جیکسن نے کہا کہ یہ قانون آسٹریلیاو ور کینیڈا میں نافذ العمل ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آسٹریلیا میں اس کے قیام سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مقامی خبر رساں اداروں مستفیذ ہونگے۔

ولی جیکسن نے کہا کہ نئی قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوگی، انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ حکومت اسے منظور کر لے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا کا الیکٹرک ٹرک، صرف ایک چارج میں 800 کلومیٹر کا سفر

جیکسن نےمزید کہا کہ نیوزی لینڈ کا نیوز میڈیا خاص طور پر وہ چھوٹے علاقائی اور کمیونٹی اخبارات جو کہ خود کو مارکیٹ میں رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں ان کے لئے یہ سہولت نہایت معاون ہوگی کیونکہ یہاں زیادہ تر اشتہار آن لائن ہوتے ہیں اس میں سب سے اہم ہے کہ جو لوگ اپنے خبروں کے مواد سے فائدہ اٹھارہے ہیں وہ حقیقی طور پر اس کی قیمت ادا کریں۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا کے اس مجوزہ قانون پرگوگل نے بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون سے جہاں فرد کی نجی پرائیویسی خطرے میں پڑ سکتی ہے وہیں آسٹریلیائی باشندے جس طرح کمپنی کی خدمات مفت استعمال کرتے ہیں اس سے وہ بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں