The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کرائسٹ چرچ، حملہ آور کو سزا دینے کی حتمی کارروائی کا آغاز 24 اگست کو ہوگا

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی عدالت نے سانحہ کرائسٹ چرچ کے مجرم کو سزا دینے کی حتمی کارروائی کی تاریخ کا اعلان کردیا،  51 افراد کے قتل میں ملوث شخص کی مقدمے کی حتمی سماعت میں متاثرہ خاندان بھی شریک ہوں گے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے شخص کی سزا سے متعلق سماعت 24 اگست کو شروع ہوگی جو تین روز تک جاری رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی عدالت عالیہ کے جج جسٹس کیمرون مینڈر نے جمعے کے روز مساجد پر حملے میں ملوث آسٹریلوی شہری برینٹن ٹارنٹ کی سزا کا تعین کرنے کے لیے 24 اگست کی تاریخ کا اعلان کیا۔

 سزا میں تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے استغاثہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’کرونا کی وجہ سے مساجد میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ اس وقت نیوزی لینڈ میں موجود نہیں ہیں اور وہ فوری طور پر واپس بھی نہیں آسکتے‘۔

مزید پڑھیں: سانحہ کرائسٹ چرچ، مرکزی ملزم 51 افراد کے قتل میں مجرم قرار

پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ اگر لواحقین کرونا کی وجہ سے 24 اگست تک نیوزی لینڈ نہ پہنچ سکے تو مجرم کی حتمی کارروائی کے وقت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لواحقین کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

نیوزی لینڈ کی عدالت کے جج جسٹس کیمرون میندر کا کہنا تھا کہ مقدمے کی حتمی کارروائی تین دن تک جاری رہے گی اور ممکن ہے کہ اس میں مزید توسیع بھی کردی جائے۔

یاد رہے کہ مساجد پر حملے میں ملوث آسٹریلوی شہری برینٹن پر رواں برس کے اوائل میں 51 افراد کو قتل اور 40 پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد ’’مسجد النور‘‘ اور ’’لِن ووڈ مسجد‘‘ میں آسٹریلوی سفید فام انتہا پسند شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 51 نمازیوں کو شہید اور 40 کو زخمی کردیا تھا۔ مجرم نے سفاکانہ حملے کی ویڈیو فیس بک پر لائیو نشر کی تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں