تازہ ترین

پاک ایران سرحد پر باہمی رابطے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے...

پی ٹی آئی دورِحکومت کی کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل سے خارج

وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی دورِحکومت کی وفاقی...

سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخوا میں آپریشن، 11 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں...

ایرانی صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی وزیراعظم ہاؤس پہنچے...

قومی ادارہ صحت میں اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہو سکا، 2 سال گزر گئے

اسلام آباد: ملک میں شعبہ صحت کا سب سے بڑا ادارہ نام نہاد اصلاحات کی نذر ہو گیا، قومی ادارہ صحت میں 2 سال گزرنے کے باجود اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

تفصیلات کے مطابق این آئی ایچ تشکیل نو ایکٹ نفاذ کو 2 سال گزر گئے لیکن تاحال اصلاحات نا مکمل ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد ری آرگنائزیشن ایکٹ پر عمل درآمد کا آغاز تک نہیں ہو سکا ہے۔

پارلیمنٹ نے 2021 میں این آئی ایچ تشکیل نو ایکٹ منظور کیا تھا، ایکٹ کے تحت قومی ادارہ صحت کے نئے 7 سینٹرز قائم ہونے تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول سمیت 6 یونٹس کے سربراہان کا تقرر بھی نہیں ہو سکا ہے۔

ذرائع کے مطابق این آئی ایچ یونٹس سربراہان کے عدم تقرر کی وجہ مبینہ بیرونی مداخلت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی ایچ بورڈ آف گورنر اصلاحات پر عمل درآمد کی پالیسی واضح نہ کر سکا، این آئی ایچ بورڈ آف گورنر کے بیش تر اراکین بیرون ملک مقیم ہیں۔

این آئی ایچ ذرائع کے مطابق عالمی اور مقامی نجی ماہرین صحت بورڈ آف گورنر کا حصہ ہیں، لیکن قومی ادارہ برائے صحت بورڈ آف گورنر کے درجنوں اجلاس بے نتیجہ رہے ہیں، این آئی ایچ تشکیل نو ایکٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا عہدہ بھی موجود نہیں۔

پروفیسر عامر اکرام بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ کام کر رہے ہیں، وہ 6 سال سے این آئی ایچ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔

Comments

- Advertisement -