The news is by your side.

Advertisement

“نمرود” کب اور کیسے برباد ہوا ہو گا؟

صدیوں‌ پہلے روئے زمین پر مختلف تہذیبوں کے فن کاروں اور ہنرمندوں نے اس زمانے کے دست یاب وسائل کی مدد سے اپنے فن کو یوں آزمایا کہ دورِ جدید میں‌ صنّاعی اور کاری گری کے یہ نمونے اور آثار دیکھنے والا انسان حیران رہ جاتا ہے۔

دنیا کی مختلف اقوام اور قدیم تہذیبوں کا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی تو ماہرینِ آثار نے “اشوریہ سلطنت” اور اس قدیم تہذیب کے بارے میں‌ بھی جانا۔ آج ہم آپ کو “نمرود” شہر کے بارے میں‌ بتائیں‌ گے جہاں‌ اشوریہ سلطنت کی عظیم نشانیاں‌ اور یادگار موجود ہیں۔

یقینا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں‌ کہ نمرود موجودہ دنیا کے کس ملک کا شہر ہے؟

نمرود، عراق کا ایک شہر ہے جو موصل سے 20 میل دوری پر جنوب مشرق کی طرف ہے۔

اس شہر پر چند سال پہلے شدّت پسندوں‌ نے قبضہ کرلیا تھا اور یہاں‌ کے قدیم تہذیبی ورثے اور تاریخی یادگاروں کو نقصان پہنچا تھا۔

اشوریہ اور نمرود شہر
اندازہ ہے کہ یہ شہر تیرہویں صدی قبلِ مسیح سے قائم ہے۔ قدیم آثار اور تہذیبوں‌ کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ 3300 برس پرانا شہر ہے۔ اشوریہ کی قدیم سلطنت سے تعلق رکھنے والا یہ شہر دریائے دجلہ کے کنارے پر آباد ہے۔

نمرود شہر سے اشوری قوم نے مشرقِ وسطیٰ کے خطّوں پر تین ہزار برس تک اپنا اثر قائم رکھا تھا۔ کوئی نہیں‌ جانتا کہ نمرود کی شان وشوکت کیسے اور کب مکمل طور پر برباد ہوئی ہو گی۔ اس شہر کی بعض قدیم عمارات اور وہاں‌ کے آثار سے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس شہر کا امتیاز یہ تھا کہ یہ قدیم اشوریہ سلطنت میں 150 برس تک دارالخلافہ بھی رہا۔

1840ء میں‌ پہلی بار یہاں‌ یورپی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھدائی کا آغاز کیا اور ایک عظیم تہذیب کے بارے میں‌ دنیا کو جاننے کا موقع ملا۔

کھدائی کے دوران وہاں سے شاہی محلّات کے مختلف حصّے، بُت، مختلف مجمسے اور دیگر اہم اشیا نکالی گئیں۔ تاہم کسی وجہ سے یہ کام کئی دہائیوں‌ تک رکا رہا اور 1949ء میں سَر میکس مالووان اور ان کی ٹیم نے دوبارہ عراق جاکر موجودہ نمرود کے نیچے دفن تہذیبی اور ثقافتی خزانے کو نکالنے کا کام شروع کیا۔

اشوریہ علوم و فنون کے دل دادہ تھے۔ ان کی سلطنت زبردست اور وہ نہایت بااثر تھے۔ اس شہر کے کھنڈرات اس سلطنت کے بامراد ہونے اور عظیم الشان ماضی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

اشوریہ کے ہنر مند اور کاری گروں‌ کے علاوہ علم و فنون سے وابستہ لوگوں نے شاہی محلّات، امرا و رئیسوں کے مکانات سے لے کر چوک چوراہوں، معبدوں، غاروں اور مختلف مقامات پر اپنی صنّاعی اور اختراع کاری کے نمونے یادگار چھوڑے۔

کھدائی کے دوران اس قدیم شہر سے بڑے پروں والا ایسا بیل بھی ملا جسے ماہرین کے مطابق وہاں‌ کے لوگ اپنا محافظ اور مددگار مانتے تھے۔

شہر کے لگ بھگ وسط میں ایک ایسی بلند عمارت کا ڈھانچا موجود تھا جس کے بارے میں‌ قیاس کیا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں‌ حکومتی ایوان رہا ہو گا۔ اس عمارت کا نام “زقورہ” یا “زیگورٹ” تھا۔ ماہرین کے مطابق اس کا ڈھانچا بتاتا ہے کہ یہ عمارت مصر کے اہرام جیسی رہی ہو گی۔

نمرود شہر کی قدیم عمارتوں‌ کے آثاروں‌ کے ساتھ وہاں‌ غاروں کی دیواروں، چٹانوں پر مختلف جانوروں، جنگجوؤں اور ایسی اشیا کی تصاویر بنی ہوئی ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح‌ سلطنت اور عوام سے تعلق ہے۔ بعض بُت اور شخصیات کے مجسمے بھی اس تہذیب اور ثقافت میں آرٹ کے عمل دخل کا ثبوت ہیں۔

ماہرین کو اس تہذیب کے کھنڈرات سے بعض ایسے نشانات اور حوالے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں‌ وہاں کتب خانے بھی موجود تھے جن میں مذہب، تاریخ، جغرافیہ اور دوسرے موضوعات پر کتب موجود تھیں۔ بدقسمتی سے عراق میں‌ خانہ جنگی اور مختلف گروہوں‌ نے اس قدیم تہذیب کے کئی نشان برباد کردیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں