The news is by your side.

Advertisement

کیا نائن الیون مقدمہ تعطل کا شکار ہورہا ہے؟

واشنگٹن: کیا نائن الیون مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کرنے کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے؟ حکام نے واضح کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی کمیشن کا کہنا ہے کہ نائن الیون دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچانے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے سے متعلق کیسز کی سماعت پھر سے شروع کرنے کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

سماعت میں تاخیر کے بارے میں پوچھے جانے پر کمیشن کے ترجمان رونالڈ فلیش وگ نے کہا کہ ’’میرے پاس ابھی تک کوئی جواب نہیں ہے، جج نے کوئی تحریری فیصلہ نہیں دیا، میں سماعت منسوخ کرنے کی سرکاری وجوہات جاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے فوجی جج کرنل میتھیو میکال نے جمعے کو گوانتانامو میں ہونے والی سماعت منسوخ کر دی تھی، جس کی وجہ اس کیس کے پانچ ملزموں میں سے ایک کو کووڈ 19 کی ویکسین نہ ملنا بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا نائن الیون کی خفیہ دستاویزات سے متعلق اہم بیان

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر امریکی صدر جوبائیڈن نے نائن الیون حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنے کا حکم دیا تھا، جوبائیڈن نے تاکید کی کہ محکمہ انصاف اور دیگر ایجنسیاں دستاویزات جاری کرنے کے جائزے کی نگرانی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں 2 ہزار 977 بے گناہ لوگوں کے خاندانوں کے درد کو نہیں بھولنا چاہیے، یہ لوگ امریکا کی تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملے میں مارے گئے تھے، امریکی صدر نے کہا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اپنے وعدے کو پورا کرنے جارہے ہیں۔

یاد رہے کہ نائن الیون کے سیکڑوں متاثرین کے اہل خانہ نے گزشتہ ماہ ایک خط میں بائیڈن کو کہا تھا کہ اس سال حملوں کی 20 سال مکمل ہونے کی تقریب میں انہیں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا جب تک کہ وہ حملے سے متعلق حکومتی شواہد کو سامنے نہیں لاتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں