The news is by your side.

Advertisement

نوبل انعام یافتہ سائنس دان نے کس کرونا ویکسین کو مؤثر قرار دیا؟

ماسکو / سڈنی: آسٹریلیا کے نوبل انعام یافتہ سائنس دال پیٹر چارلس ڈوورٹی نے روسی کرونا ویکسین کو 90 فیصد تک مؤثر قرار دے دیا۔

صدائے روس کی رپورٹ کے مطابق سائنس اور طب کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے نوبل انعام یافتہ آسٹریلوی ڈاکٹر برائے وائرس پیٹر چارلس ڈوورٹی نے روسی ویکسین اسپوتنک V کو مؤثر قرار دیا۔

میڈیا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’اسپوتنک V ویکسین کرونا کے خلاف 90 فیصد سے زائد مؤثر نظر آتی ہے کیونکہ روس کی ویکسین تیار کرنے کی طویل تاریخ ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اگر کرونا اپنی شکل اور حدت کو تبدیل کرتا ہے تب بھی اسپوتنک اُس کے خلاف مؤثر ثابت ہوگی‘۔

مزید پڑھیں: روسی ویکسین کی افادیت تسلیم کرنے سے متعلق بڑی خبر

واضح رہے کہ روس کی دوا ساز کمپنی نے ماہرین کے مشورے اور تجربے سے کرونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تغیر شدہ وائرس اور کرونا کی حدت تبدیل ہونے پر بھی ویکسین میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ تین روز قبل روس کی تیار کردہ کرونا ویکسین اسپوتنک V کے سلسلے میں اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی تھی کہ جب برطانیہ کے مشہور طبی جریدے دی لانسیٹ نے روسی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائلز کی رپورٹ شائع کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کلینیکل ٹرائلز کے دوران 19 ہزار 866 رضا کاروں کو ویکسین لگائی گئی، ان میں چار ہزار 902 پلیبو گرپ کے لوگ بھی شامل تھے۔ برطانوی جریدے نے روسی ساختہ ویکسین کو مجموعی طور پر 91.6 فیصد مفید قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کا روسی ویکسین سے متعلق بڑا فیصلہ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپوتنک V انتہائی مؤثر ویکسین ہے جس کی شرح 91 فی صد سے زائد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں