The news is by your side.

Advertisement

نوبیل امن انعام 2018: عراق کی نادیہ مراد اور کانگو کے ڈاکٹر ڈینس فاتح قرار

اوسلو: نوبیل امن انعام برائے 2018 عراق کی یزیدی خاتون نادیہ مراد اور کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مکویگی نے مشترکہ طور پر اپنے نام کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق 2018 کا نوبیل امن انعام عراق کی نادیہ مراد اور کانگو کے ڈاکٹر ڈینس نے مشترکہ طور پر جیت لیا، نوبیل امن انعام کی تقریب ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقد ہوئی۔

نادیہ مراد کو داعش نے پکڑ کر قید کیا تھا، انھوں نے داعش کی غلامی سے فرار ہونے کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔

پروقار تقریب میں عراقی خاتون نادیہ مراد اور کانگو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈینس مکویگی کو رواں برس کا نوبیل امن ایوارڈ دیا گیا۔

دونوں نوبیل ونرز کو 10 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم بھی دی گئی جو ان میں مساوی طور پر تقسیم ہوگی، نادیہ اور ڈینس کو تقریب میں گولڈ میڈل اور ڈپلومہ بھی دیا گیا۔

دونوں ایوارڈ ونرز کے درمیان جو چیز مشترک تھی وہ خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد میں سرگرمی سے شریک ہونا تھا، نادیہ مراد کو داعش نے پکڑ کر قید کیا تھا، انھوں نے داعش کی غلامی سے فرار ہونے کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔


یہ بھی پڑھیں:  نصف صدی کا انتظار ختم ہوا، ایک خاتون نے فزکس کا نوبیل انعام اپنے نام کر لیا


گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ڈینس مکویگی شورش زدہ ملک جمہوریہ کانگو میں تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی مدد کے سلسلے میں سرگرم رہے جس پر انھیں نوبیل امن انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ 14 سال سے مشرقی کانگو میں ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 10 اکتوبر 2014 کو خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی نے مہلک طالبان حملے سے جاں بر ہونے کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خدمات انجام دینے پر نوبیل امن انعام حاصل کیا تھا۔

دو ماہ قبل فزکس کے شعبے میں نصف صدی بعد کسی خاتون نے نوبیل انعام حاصل کیا، ڈونا سٹرکلینڈ نوبیل کی تاریخ میں فقط تیسری خاتون ہیں، جس نے فزکس کے شعبے میں یہ ایوارڈ اپنے نام کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں