The news is by your side.

Advertisement

الفریڈ نوبل کی وصیت اور دنیا کا سب سے معتبر انعام

نوبل انعام کا حق دار اسے سمجھا جاتا ہے جس نے اپنے شعبے میں قابلِ ذکر اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو اور کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔

کسی کی کارکردگی یا کام کے معیار کو جانچنے یا پرکھنے اور اس کی بنیاد پر نوبل انعام سونپے جانے اور انعام کی رقم دینے کے لیے اصول اور ضابطے طے کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے باقاعدہ بورڈ اور دیگر اراکین موجود ہیں جو یہ سارے فیصلے اور انتظامات کرتے ہیں۔ نوبل، دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ مانا جاتا ہے جس کا اہتمام سویڈش اکیڈمی کرتی ہے۔

نوبل انعام کی بنیاد کس نے رکھی؟
نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا جس کی زندگی کا بیش تر حصہ روس میں گزرا۔ تاہم اس کا اصل وطن سویڈن تھا۔ الفریڈ نوبل نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا تھا۔ اس کی دیگر ایجادات بھی دنیائے سائنس میں قابل ذکر ہیں۔ کہتے ہیں‌ الفریڈ نوبل کے انتقال کے وقت ڈائنامائٹ اور اس کے اثاثوں سے حاصل ہونے والی رقم 90 لاکھ ڈالر تھی۔

ڈائنامائٹ کے اس موجد کی وصیت کیا تھی؟
الفریڈ نوبل نے موت سے قبل تحریری وصیت میں اپنی دولت ہر سال ان افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دینے کو کہا جنھوں نے طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدان میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔

الفریڈ کی وصیت پر کس طرح عمل کیا گیا؟
موت کے بعد الفریڈ کی وصیت کے مطابق ایک فنڈ قائم کیا گیا جس کا منافع مختلف شعبوں میں نمایاں کام کرنے والوں میں تقسیم کیا جانے لگا۔

پہلی تقریب کب منعقد ہوئی؟
الفریڈ نوبل کو دنیا سے گئے پانچ سال بیت چکے تھے جب پہلی بار اس کی وصیت کے مطابق نوبل انعام متعلقہ شعبوں کی قابل شخصیات میں تقسیم کیا گیا۔ 10 دسمبر 1901 کو پہلی بار نوبل پرائز کی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو منعقد کی جاتی ہے۔

تقریب کے دوران نوبل انعام کا حق دار کیا وصول کرتا ہے؟
اس معتبر ایوارڈ کی تقریب کے دوران دو یادگاری نشان اور انعامی رقم دی جاتی ہے۔
ہر انعام یافتہ ایک نوبل ڈپلوما حاصل کرتا ہے جو دراصل منفرد فن پارہ ہوتا ہے۔
اسی طرح نوبل کے حق دار کو خصوصی میڈل سے نوازا جاتا ہے، جو مختلف ڈیزائن کے ہوتے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے اس موقع پر انعامی رقم بھی دی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں