The news is by your side.

Advertisement

جعلی اکاؤنٹس کیس، بھٹو ہاؤس کا انچارج عدالت میں روپڑا

اسلام آباد: نیب کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا بھٹو ہاؤس کا انچارج عدالت میں دورانِ سماعت رو پڑا اور جج سے کہا کہ میں غریب آدمی ہوں، قصور وار مالکان ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دو روز قبل نوڈیرو سے حراست میں لیے جانے والے بھٹو ہاؤس کے انچارچ ندیم بھٹو کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج ارشد ملک نے ملزم سےسوالات کیے کہ تعلق کہا سے اور کیا کرتے ہیں ؟ ملزم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور میں نوڈیرو میں قائم بھٹو ہاؤس کا انچارج ہوں۔

نیب کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ بھٹو ہاؤس کے ملازم ہیں جن کے اکاؤنٹ میں 73 لاکھ پچاس ہزار روپے جمع ہوئے۔ ندیم بھٹو نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ پیسے گھر کے اخراجات کے لیے آتے تھے۔

جج ارشد ملک سے ملزم سے سوال کیا کہ کیا گھر کا خرچ چلانے کے لئے اتنی رقم کی ضرورت ہوتے ہیں؟ جس پر ندیم بھٹو نے جواب دیا کہ بھٹو ہاؤس ایک بڑا گھر ہے، جہاں ملازمین کام کرتے ہیں اور ان پیسوں سے ہی اُن کی تنخواہ ادا کی جاتی ہے جبکہ میں بھی 20 ہزار ماہانہ تنخواہ پر کام کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس، گرفتار ملزم زرداری اور بلاول کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا

جج نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ کو علم نہیں تھا اتنی رقم کہاں سے آرہی ہے، یہ کوئی مذاق نہیں، آپ کے اکاؤنٹ میں کُل 71 لاکھ روپے آئے؟ اتنی زیادہ رقم کو کہاں اور کیسے خرچ کیا۔؟ ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ میں یہی سمجھتا رہا مالک پیسے بھیج رہے ہیں، مجھے رقم کے حوالے سے علم نہیں تھا کیونکہ میں تو خود چھوڑا سا ملازم ہوں، جے آئی ٹی میں معاملہ سامنے آیا تو معلوم ہوا اکاؤنٹس میں بہت زیادہ گڑھ بڑھ ہے۔

بھٹو ہاؤس کے انچارج نے عدالت میں روتے ہوئے کہا کہ ’میں غریب آدمی ہوں مجھے کوئی علم نہیں، میرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں کہ وکیل کرسکوں، جب رقم آتی تھی تو ملازمین کو تنخواہیں اور بھٹو ہاؤس کے اخراجات کرتا تھا۔ جج ارشد ملک نے سوال کیا کہ تو نوڈیرو والے کہاں گئے مشکل وقت میں آپ کو کوئی نہیں پوچھتا ؟ جس پر ملزم نے جواب دیا کہ ’’نہیں جناب ہم غریبوں کو کوئی نہیں پوچھتا، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس :نیب نے آصف زرداری کے قانونی مشیر کو طلب کرلیا

جج نے ندیم بھٹو سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو ریمانڈ پر نیب کے حوالے کررہے ہیں، تفتیش کے دوران ساری باتیں سچ سچ بتا دیں، رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہم اُن سے بھی ضرور پوچھیں گے’۔ ندیم بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میں اللہ کو حاضر جان کر کہتا ہوں سچ ہی بتا رہا ہوں، میں تو نوکر ہوں مالکان سے پوچھیں پیسے کہاں سے آتے تھے’۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ملزم اگر ہمیں معلومات فراہم کرے تو ہم تعاون کرنے کو تیار ہیں، کالا دھن سفید ایسے لوگوں کے نام اکاؤنٹس کھولے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں