The news is by your side.

Advertisement

نور مقدم قتل کیس: مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹسز جاری

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے اور جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ہوئی ، سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کی۔

ملزم ذاکر کی جانب سے اسد جمال ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، اسد جمال ایڈووکیٹ نے بتایا کہ میرے موکل کو نور مقدم کیس کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، ظاہر جعفر پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔

، وکیل ملزم نے استدعا کی کہ عدالت ذاکر جعفر ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرے، جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

گذشتہ ماہ نور مقدم قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواستیں عدالت نے مسترد کردی تھیں۔

خیال رہے کہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 ستمبر تک کی توسیع کی تھی۔

واضح رہے کہ عید کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون سے ایک سربریدہ لاش ملی تھی، جسے سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کے نام سے شناخت کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا بعد ازاں اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں