The news is by your side.

Advertisement

شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ، امریکی ردعمل بھی آگیا

پیانگ یانگ : شمالی کوریا نے ایک بار پھر سمندر میں بیلیسٹک میزائل فائر کیے ہیں، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوریا کا اس نوعیت کے ہتھیاروں کا یہ دوسرا تجربہ ہے۔

اس حوالے سے جنوبی کوریا کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ شمالی کوریا نے بدھ کے روز مشرقی ساحل سمندر پر دو میزائیل ٹیسٹ کئے ہیں۔ مختصر فاصلے کا میزائل اپریل 2020 کے بعد اس کا پہلا میزائل تجربہ ہے۔

شمالی کوریا کا یہ اقدام امریکہ کے ساتھ سفارت کاری میں تعطل کے درمیان آیا ہے جس میں بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ بنانا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے دوبارہ ٹیسٹ شروع کرنے کی جانب ایک اشارہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے مشرقی ساحل پر امریکی اورجنوبی کوریا کی افواج ٹیسٹوں کا تجزیہ کررہی ہیں۔

فوجی سربراہ نے ابھی تک یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ یہ میزائل بیلسٹک میزائل ہیں یا وہ فاصلہ جو وہ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے یہ تجربہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں تعطل کے درمیان کیا ہے۔ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اور اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فروری 2019 میں ہونے والی دوسری سربراہی کانفرنس کے ناکام ہونے کے بعد یہ تعطل پیدا ہوا ہے۔

اس مذاکرات میں امریکہ نے شمالی کوریا کے اپنے جوہری پروگرام کو جزوی طور پر بند کرنے کے بدلے میں اس پر عائد بڑی پابندیوں کو ختم کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

شمالی کوریا اب تک بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں کو نظرانداز کر چکا ہے۔ کم جونگ کی بہن نے گذشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں پر امریکہ کو دھمکی دی تھی۔

انہوں نے ان مشقوں کو دراندازی کی ریہرسل قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اگلے چار سال تک پر سکون طریقے سونا چاہتے ہیں تو وہ خلل پیدا کرنے سے دور رہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اتوار کے روز شمالی کوریا کی جانب سے تجربہ کیا گیا مختصر فاصلے کا میزائل اپریل 2020 کے بعد اس کا پہلا میزائل تجربہ ہے۔ بائیڈن نے اس پر توجہ نہیں دی اور کہا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں