The news is by your side.

Advertisement

نوشکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والا شخص ملا منصور تھا، وزارتِ داخلہ

اسلام آباد: ترجمان وفاقی وزارتِ داخلہ نے اپنے حالیہ جاری ہونے والے بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نوشکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والا دوسرا شخص تحریک طالبان افغان کا امیر ملا اختر منصور تھا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد تصدیق کی گئی ہے کہ نوشکی ڈرون حملے میں قتل ہونے والے شخص کی شناخت ملا اختر منصور کے نام سے ہوئی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے حکام نے مزید بتایا کہ مقتول کا ڈی این اے اُس کے قریبی افغان عزیز سے مماثلث رکھتا ہے، مشتبہ شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تحریک طالبان کے امیر کا قریبی عزیز ہے۔

واضح رہے رواں ماہ کی 21 تاریخ کو بلوچستان کے علاقے نوشکی میں امریکی ڈرون طیارے نے میزائل فائرکرکے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا، جس میں امریکہ کی جانب سے دعویٰٰ کیا گیا تھا ہلاک ہونے والے دو افراد میں سے ایک شخص تحریک طالبان افغان کا ملا اختر منصورہے۔

امریکی دعوے کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ پاکستان چوہدری نثار کی جانب سے ملا اختر منصور کی ہلاکت کے حوالے سے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد باضابطہ بیان جاری کرنےکا اعلان کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حملے میں قتل ہونے والے ڈرائیور محمد اعظم کے بھائی محمد قاسم کی جانب سے امریکی حکام کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔  ایف آئی آرمیں 427،109، اور 302 کی دفعات لگائی گئی ہیں، جس کے ساتھ خصوصی 3،4،7 اور 7 اے ٹی اے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں : نوشکی ڈرون حملے کی ایف آئی آر امریکی حکام کے خلاف درج کر لی گئی ہے

مقتول ڈرائیور کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا بھائی بے گناہ تھا، اُس کا کسی جہادی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا اور گاڑی چلا کر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتا تھا۔

محمد قاسم نے پاکستانی عدالتوں سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقتول کے چار بچے انصاف کے متلاشی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں