این آر او کیس، مشرف اور اہلیہ کےاثاثوں کی تفصیل طلب، آ صف زرادری کا بیان حلفی مشکوک قرار
The news is by your side.

Advertisement

این آر او کیس، مشرف اور اہلیہ کےاثاثوں کی تفصیل طلب، آ صف زرادری کا بیان حلفی مشکوک قرار

اسلام آباد: این آراو کیس میں چیف جسٹس نے مشرف اوران کی اہلیہ کے اکاونٹ کی تفصیلات دس دن میں جمع کرانے کا حکم دے دیا جبکہ آصف زرداری کابیان حلفی مشکوک قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے این آر او کیس کی سماعت کی، درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے فریقین نے غیر ملکی اثاثوں کی تفصیل مانگی تھی، جس پر وکیل پرویز مشرف نے کہا پرویزمشرف نے بیان حلفی جمع کروا دیا ہے، ،پرویز مشرف کے پاس دبئی میں اپارٹمنٹ ہے جبکہ ایک مرسیڈیز سمیت تین گاڑیاں ہیں، پرویز مشرف کے دبئی اکاونٹ میں بانوے ہزار درہم ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کیا فلیٹ کو گوشواروں میں ظاہر کیا گیا، وکیل کا کہنا تھا کہ میں تصدیق کرکے عدالت کو بتاؤں گا، جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا پرویز مشرف ساری زندگی کی تنخواہ سے بھی فلیٹ نہیں لے سکتے تھے، پرویز مشرف کو کہیں کہ عدالت آکر وضاحت کریں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ مشرف کے غیر ملکی اثاثے صدارت چھوڑنے کے بعد کے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کیا لیکچر دینے سے اتنے پیسے ملتےہے ، ایسا ہے تو میں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد لیکچر دوں گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا چک شہزاد فارم ہاوس کس کا ہے ، وکیل نے بتایا چک شہزاد فارم ہاوس پرویز مشرف کا ہے۔

سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے پاکستانی اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلی، چیف جسٹس نے کہا 10 دن میں مشرف اور ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹ کی تفصیلات جمع کرائیں۔

چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ آصف زرداری کا بیان حلفی کیسے لیک ہوا، آپ نے تو نہیں لیک کیا، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا نہیں ہم نے ایسا نہیں کیا۔

این آراو کیس، آصف زرادری کا بیان حلفی مشکوک قرار

این آراو کیس میں سپریم کورٹ نے آصف زرادری کابیان حلفی مشکوک قرار دے دیا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بیان حلفی میں لکھا ہے آج کے دن میری بیرون ملک جائیداد نہیں، آج کے دن جیسا جملہ شکوک پیدا کرتا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ آصف زرداری 15 روز میں نیا بیان حلفی جمع کرائیں، جس میں گزشتہ دس سال میں اثاثوں کی تفصیلات دی جائے، خاص طور پر سوئس بینک اکاؤنٹ سے متعلق مؤقف دیاجائے۔

وکیل صفائی فاروق نائیک نے کہا آصف زرداری کے خلاف اثاثہ جات کیس نو سال چلا، کیس میں 40 گواہوں پر جرح کی گئی ، آصف زرداری کے 9 سال کون واپس کرے گا، جو وہ جیل میں رہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا نقصان کاازالہ ایسے ہوگا کہ عدالت کلیئرنس سرٹیفکیٹ دے گی۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا تمام چھان بین اثاثہ جات کیس میں ہوچکی ہے، نئے بیان حلفی پرآپ دوبارہ تحقیقات شروع کرادیں گے، جس پر عدالت نے کہا کوئی الزام لگا رہے ہیں نہ کوئی مقدمہ چلا رہے ہیں، چاہتے ہیں عوامی لیڈر اپنے اثاثہ جات سامنے رکھ دے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا بیرون ملک جائیداد رکھنا ٹیکنیکل ہوگیا جس کا پتہ تک نہیں چلتا، ہم نےحال ہی میں ایک کیس میں فیصلہ دیا ہے، ٹرسٹ کی انتظامی نوعیت کے مطابق بنیفشری جائیداد چھپانا چاہتا ہے، اب تو رقم کی ترسیل ڈالرز میں ختم اور نئے طریقے آرہے ہیں، جسٹس عمر عطا

بعد ازاں سپریم کورٹ میں این آراوکیس کی سماعت 3ہفتے کے لئے ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں