The news is by your side.

Advertisement

نرسوں کی ہڑتال کا نواں دن، مریض سہولیات سے محروم

کراچی: سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نویں روز بھی نرسنگ اسٹاف کی غیر حاضری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بیمار بچوں کا علاج کے لیے داخلہ بند ہے۔

تفصیلات کے مطابق نرسوں کی ہڑتال کے سبب سندھ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور ڈاکٹروں کو مشکلات کا سامنا ہے ،نرسنگ اسٹاف کی جانب سے کیے گئے مطالبات منظور کیے جانے کے باوجود چار درجاتی فارمولے کی منظوری کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے ۔

اس ہڑتال کے سبب قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بیمار بچوں کے داخلے پر بدستور پابندی ہے، یہی صورتحال لگ بھگ تمام سرکاری اسپتالوں میں درپیش ہے۔تمام سرکاری اسپتالوں سے نرسنگ اسٹاف غیر حاضر ہے۔صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مریضوں کی تیمارداری کا فریضہ بھی ڈاکٹروں کو ادا کرنا پڑرہا ہے۔

حکومت سندھ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ نرسوں کے مطالبات تسلیم کرکے معاملہ پہلے ہی حل کیا جاچکا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق چار درجاتی فارمولے کا مرحلہ محکمہ قانون اور محکمہ ماحولیات کے درمیان قانونی مراحل میں ہے ۔ یاد رہے کہ نرسنگ اسٹاف کی غیر حاضری کے باعث مختلف شعبہ جات کے امور شدید متاثرہیں۔

اس حوالے سے قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے سربراہ ڈاکٹر جمال رضا کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے عوام کو مشکلات ہوتی ہیں، ہم نے حکومت سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ نرسوں کے مسئلے کا حل نکالا جائے اور اسپتالوں میں سروس مکمل بحال ہوسکے۔

ڈاکٹر جمال رضا نے اے آروائی نیوز کو بتایا کہ این آئی سی ایچ میں داخلے معمول سے بہت کم ہورہے ہیں، اسٹاف نرس موجود نہ ہو تو مریضوں کی دیکھ بھال کیسے ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں ہر ممکن سہولت فراہم کر رہے ہیں، ایمرجنسی وارڈ اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں نرسنگ اسٹاف موجود ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں