The news is by your side.

Advertisement

سانحہ چونیاں کیس : رحیم یارخان سے گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

رحیم یار خان :چونیاں میں چار بچوں کے قتل کیس میں گرفتار ملزم نے اعتراف جُرم کرلیا، ملزم شہزاد کو رحیم یار خان سے گرفتار کیا گیا،چھتیس سالہ شہزاد کے والد نےبیٹےپرشک کااظہار کیاتھا۔

ڈی پی او قصور  نے کہا  تفصیلات کے مطابق سانحہ چونیاں کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے وقوعہ کے بعد غائب ہونے والے مشتبہ شخص سجاد کو رحیم یار خان سے گرفتار کر لیا ہے۔

ڈی پی او کے مطابق گرفتار شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری بھجوایا ہے، رپورٹ چنددن میں آئےگی ، رپورٹ کے بعد ہی ملزم کے ملوث ہونے کا تعین کیا جا سکے گا۔

ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے بعد جو ریکارڈ یافتہ ملزم غائب ہوئے تھے، ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، بہت جلد اصل ملزمان سامنے آ جائیں گے۔

رات گئے ملزم شہزاد کوپولیس نے رحیم یار خان سےگرفتار کر کے قصور منتقل کیا ، جیو فرانزک کے ذریعے ملزم شہزاد کی لوکیشن پہلے کراچی اور پھر رحیم یار خان کی سامنے آئی، ملزم شہزاد نے ابتدائی تفتیش میں بچوں سےزیادتی کا اقرار کیا۔

ذرائع کے مطابق سانحہ چونیاں کیس میں رحیم یارخان سے گرفتار ملزم نےاعتراف جرم کر لیا ہے ، ملزم کورات گئےرحیم یار خان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شہزاد نامی ملزم واقعے کے بعد سے ہی فرار تھا، شہزاد کے بہنوئی نے اس کے اغوا کا مقدمہ تھانہ سٹی میں درج کرایا تھا۔ چھتیس سال کا شہزاد چار بچوں کا باپ اور ٹریکٹر ٹرالی کا ڈرائیور ہے، بچے کی لاش اور باقیات کی اطلاع بھی ایک اور ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور نے دی تھی۔

ذرائع کے مطابق دو روز قبل شہزاد کے والد نے جےآئی ٹی میں پیش ہو کر بیٹے پر شک کااظہار کیا تھا، والد محمد حسین نے بتایا تھا کہ بیٹا بچوں سے زیادتی کے کافی واقعات میں ملوث ہے، شہزاد کا والد محمد حسین نجی کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ ہے۔

مزید پڑھیں : سانحہ چونیاں، پولیس کی غفلت کے مزید انکشافات

ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کا کہنا ہے کہ چار سے پانچ افراد گرفتار کئے ہیں۔

یاد رہے سانحہ چونیاں کے سلسلے میں پولیس کی غفلت کے مزید انکشافات ہوئے تھے اور سابق ڈی پی او قصور عبدالفغار قیصرانی کو صوبہ بدر کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے ایک ہفتے قبل قصور کے ضلع پتوکی کے علاقے چونیاں میں‌ ایک ہول ناک واقعہ پیش آیا تھا، جس سے پورے علاقے میں کھلبلی مچ گئی تھی، ویران علاقے سے لاپتا بچوں‌ کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، ایک لاش مکمل تھی، جب کہ باقی دو کے اعضا اور ہڈیاں پائی گئیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر غفلت برتنے والے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کر کے ڈی پی او قصور کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں