تازہ ترین

کوئٹہ: تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے گئے 9 مسافر قتل

کوئٹہ:نوشکی کے قریب تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے...

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

سنگدل شخص نے بیوی اور 7 بچوں کو قتل کر دیا

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں اجتماعی قتل کا...

کم عمری میں فالج کا حملہ، حیران کن وجہ سامنے آگئی

فالج کا حملہ دماغ میں خون کی نالی کی بندش یا رساؤ کے باعث ہوتا ہے جو کہ ناکافی آکسیجن اور غذائیت کی فراہمی کا باعث بنتا ہے، اس کے نتیجہ میں دماغی خلیوں میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر سال لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد مریض کسی نہ کسی مستقل معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ 10 سے 20 فیصد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

outdoor light

تاہم محققین نے فالج کے حملے اور خصوصاً جوانی یا کم عمری میں اس کا شکار ہونے کے حوالے سے اس کی وجوہات سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔ مذکورہ تحقیق کے نتائج جرنل اسٹروک میں شائع ہوئے۔

اس حوالے سے چین میں کی جانے والی تحقیق میں جوان افراد میں فالج جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھانے والی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے۔

مذکورہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رات کے وقت استعمال کی جانے والی مصنوعی روشنیوں (بلب وغیرہ) میں زیادہ وقت گزارنے سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

disease

محققین کا کہنا ہے کہ رات کے وقت روشنی کے مختلف بیرونی ذرائع (آؤٹ ڈور آرٹی فیشل لائٹس) فالج کے خطرے کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔

چین کے ژی جیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی رپورٹ کے مطابق رات میں روشن ہونے والی مصنوعی روشنیاں دماغ میں خون کے بہاؤ کو اس طرح متاثر کرتی ہیں جس سے فالج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ان مصنوعی روشنیوں میں زیادہ رہنے والے افراد میں دماغی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ 43 فیصد بڑھ جاتا ہے، اس میں شریانیں بند ہوجاتی ہیں جو دماغ میں خون کی فراہمی روکتی ہیں اور دماغ میں ہی خون بہنا شروع ہوجاتا ہے یہ دو حالتیں فالج کا سبب ہیں۔

stroke Symptoms

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی روشنیوں سے میلاٹونین نامی ہارمون بننے کا عمل دب جاتا ہے، جس سے ہماری جسمانی گھڑی اور نیند متاثر ہوتی ہے اور دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین نے عوام خصوصاً شہر میں رہنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو شہر کی مصنوعی روشنیوں سے محفوظ رکھیں یا کم از کم اسے حد درجہ کم کردیں۔

Comments

- Advertisement -